جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور شور شرابے کے درمیان مکمل ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ واضح رہےکہ جمعہ کے روز جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان میں قرار داد پیش کی تھی۔اس قرارداد پر جیسے ہی بحث کا آغاز ہوا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے شدید مخالفت کرتے ہوئے ایوان کے ویل میں گھس کر دھرنا دے دیا۔
احتجاج کےجواب میں احتجاج
صورتِ حال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بی جے پی کے احتجاج کے جواب میں کانگریس اراکین نے "ووٹ چوری" کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ ایوان میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر چار اراکین اسمبلی، عرفان حفیظ لون، افتخار احمد، وکرم رندھاوا اور اروند گپتا کو مارشلز کے ذریعے ایوان سے باہر نکال دیا گیا، جس کے بعد بی جے پی اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ واضح رہے کہ اراکین کی جانب سے اس قرارداد میں 8 ترامیم بھی تجویز کی گئی تھیں، جنہیں وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کے بعد واپس لے لیا گیا۔
ریاستی درجہ ہمارا حق ہے۔ بھیک نہیں: سی ایم
جموں و کشمیر اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی کی قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ ریاستی درجے کا مطالبہ کر کے کوئی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کو ملٹنسی کے ساتھ جوڑنا، پاکستان کو یہ طے کرنے کا اختیار دینے کے مترادف ہوگا کہ یہاں ریاستی درجہ کب بحال کیا جائے۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی قرارداد میں کہیں بھی خصوصی حیثیت یا دفعہ 370 کا ذکر نہیں ہے، پھر بی جے پی کس کے اشارے پر ہنگامہ آرائی کر رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ خود ان کے لاء سیکریٹری اور چیف سیکریٹری نے اسپیکر کو اس قرارداد پر بحث نہ کرانے کی تجویز دی تھی، جبکہ بحیثیت وزیرِ قانون انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا۔
بی جےپی نے اسپپکرکو ہٹانے کا نوٹس دیا
ایوان میں آج اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیہ نے موجودہ اسپیکر عبد الرحیم راتھر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک تحریک پیش کر دی۔ پٹھانیہ نے اسپیکر پر کھلی جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان کے طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کی بحالی سے متعلق قرارداد پر بحث کی اجازت دی۔ بی جے پی رہنما نے اسپیکر سے فوری طور پر اپنی کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کیا، تاہم اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور رولنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی تحریک کے لیے 14 دن کا نوٹس اور بحث کی قانونی مدت درکار ہوتی ہے۔
اسمبلی میں 5 بلز پیش
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز اسمبلی میں پانچ بل پیش کیے، جن میں وزراء اور قانون سازوں کی تنخواہوں میں ترمیم اور کاروبار کرنے میں آسانی (ease of doing business) کو فروغ دینے سے متعلق بل شامل ہیں۔عبداللہ نے 'جموں و کشمیر منسٹرز اینڈ منسٹرز آف اسٹیٹ سیلریز ایکٹ، 1956'، 'جموں و کشمیر اسٹیٹ لیجسلیچر کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ایکٹ، 1960' اور 'جموں و کشمیر اسٹیٹ لیجسلیچر کے اراکین کے پنشن ایکٹ، 1984' میں ترمیم کے لیے تین الگ الگ بل پیش کیے۔
وزیرِ اعلیٰ نے ایک ایسا بل بھی پیش کیا جس کا مقصد قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا ہے تاکہ 'اجازت پر مبنی کنٹرول' کی جگہ 'ضابطوں پر مبنی نظامِ حکمرانی' لایا جا سکے۔ اس کا مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا، نیز کاروبار کرنے اور زندگی گزارنے میں ایسی آسانی پیدا کرنا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور یونین ٹیریٹری میں طویل مدتی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔







