کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کی ہائی کورٹ نے متنازع مذہبی رہنما اور پادری پال میکنزی کو 191 افراد کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 200 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ استغاثہ کے مطابق میکنزی نے اپنے پیروکاروں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں بھوکا رہ کر اپنی جان دینی ہوگی۔ اس گمراہ کن تعلیم کے نتیجے میں 190 بچے اور ایک بالغ شخص ہلاک ہوگئے۔ یہ سزا 19 اکتوبر کو عدالت کی جانب سے میکنزی اور اس کے 28 ساتھیوں کو قتل کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد سنائی گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پیروکاروں کو فاقہ کشی پر مجبور کیا اور اموات کے بعد اجتماعی قبروں کو چھپانے کی کوشش بھی کی۔
پال میکنزی کے ساتھیوں میں ایسے محافظ بھی شامل تھے جو لوگوں سے زبردستی بھوکا رہنے کے احکامات پر عمل کراتے تھے، جبکہ قبر کھودنے والے افراد اجتماعی قبروں کو پوشیدہ رکھنے میں مدد دیتے تھے۔ مقدمے کے دوران صرف ایک ملزم نے اپنا جرم قبول کیا اور سزا میں رعایت کی درخواست کی، جبکہ باقی ملزمان نے الزامات مسترد کردیے۔ عدالت نے دفاع کی اس دلیل کو بھی تسلیم نہیں کیا کہ متاثرین نے اپنی مرضی سے روزہ رکھا تھا اور انہیں کسی قسم کے دباؤ یا ترغیب کا سامنا نہیں تھا۔ جج کے مطابق مذہبی تعلیمات کی آڑ میں معصوم اور کمزور لوگوں کو موت کی طرف دھکیلنا ایک مجرمانہ عمل تھا۔
شاکاہولا جنگل سے 400 سے زائد لاشیں برآمد
اس معاملے نے 2023 میں اس وقت عالمی توجہ حاصل کی جب کینیا کی ساحلی کلیفی کاؤنٹی میں واقع چاکاما رینچ سے 400 سے زائد لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ علاقہ تقریباً 800 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ حکام نے شاکاہولا جنگل کے قریب چھاپوں کے دوران لاشیں دریافت کیں، جہاں میکنزی کے پیروکار مٹی سے بنے گھروں میں رہتے تھے اور بیرونی دنیا سے تقریباً کٹے ہوئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق پال میکنزی اور اس کے گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ نے ایک ایسا مذہبی گروہ قائم کیا تھا جو دنیا کے خاتمے کے نظریے پر یقین رکھتا تھا۔ پیروکاروں کو مبینہ طور پر بتایا جاتا تھا کہ قیامت سے پہلے جنت میں داخل ہونے کے لیے انہیں خود بھی بھوکا رہ کر جان دینی ہوگی اور اپنے بچوں کو بھی فاقہ کشی پر مجبور کرنا ہوگا۔
2017 سے نگرانی کے باوجود سرگرم رہا نیٹ ورک
اس واقعے کے بعد کینیا میں یہ سوال بھی اٹھا کہ 2017 سے نگرانی کے باوجود یہ نیٹ ورک اتنے عرصے تک کیسے سرگرم رہا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق حکام نے 2019 میں میکنزی کے چرچ کو بند کردیا تھا، جس کے بعد وہ شاکاہولا جنگل منتقل ہوگیا۔عدالت نے تفتیشی شواہد، عینی گواہوں کے بیانات اور اجتماعی قبروں سے ملنے والی لاشوں کو فیصلے کی بنیاد قرار دیا۔ استغاثہ نے سزا کو متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی جانب ایک اہم قدم بتایا ہے، جبکہ دفاع نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مقدمے سے متعلق مزید قانونی کارروائیاں بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی۔






