Tuesday, October 27, 2026 | 15 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کھڑگے کا مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کا الزام، 13 ریاستوں کے اعداد و شمار جاری

کھڑگے کا مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کا الزام، 13 ریاستوں کے اعداد و شمار جاری

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 27 Oct 2026

کھڑگے کا مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کا الزام، 13 ریاستوں کے اعداد و شمار جاری
یکم نومبر کی اپوزیشن ریلی کو دبانے کی کوشش کا دعویٰ
کانگریس صدر نے انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں پر اٹھائے سوالات
 
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کو لے کر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے اسپیشل سمری ریویژن (SSR) کے دوران 13 ریاستوں میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اسے ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ قرار دیا۔ کھڑگے نے یہ الزام بھی لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ یکم نومبر کو ہونے والی اپوزیشن کی ریلی کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کھڑگے نے کہا کہ ’انڈیا‘ اتحاد ہر شہری کے ووٹ کے تحفظ اور آئین کی پاسداری کے لیے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گا۔
 
کانگریس صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جیسے جیسے الیکشن کمیشن کے اقدامات سامنے آ رہے ہیں اور ووٹوں کی مبینہ چوری کے معاملات بے نقاب ہو رہے ہیں، مودی اور شاہ عوامی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو کیوں بچا رہی ہے۔ کھڑگے کے مطابق، توجہ ہٹانے کی کوششیں اور مبینہ جھوٹا پروپیگنڈا حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔
 
کھڑگے کے مطابق، اتر پردیش کے پیلی بھیت میں فارم 8 کے ذریعے 10,470 اندراجات میں مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور ریاست بھر میں آڈٹ کرایا گیا۔ انہوں نے قانون ساز کونسل کی انتخابی فہرستوں میں 158 اندراجات میں غلطیوں کا بھی ذکر کیا۔ مہاراشٹر کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی فہرستوں کے مسودے پر نظرثانی کے دوران 2.07 کروڑ نام ہٹائے گئے۔ ان کے مطابق، قانون ساز کونسل کی فہرستوں میں بھی غلطیاں سامنے آئیں، جنہیں کمپیوٹر پر مبنی یا خودکار ترجمے کے عمل سے جوڑا گیا۔ مغربی بنگال کے حوالے سے کھڑگے نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد انتخابی فہرستوں سے نام ہٹائے جانے کے خلاف دائر اپیلوں میں سے 93 فیصد کامیاب رہیں۔
 
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ راجستھان میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاستی الیکشن کمیشن کی انتخابی فہرستوں میں تقریباً 30 لاکھ کا فرق پایا گیا۔ گجرات میں ان کے مطابق، نظرثانی کے بعد انتخابی فہرستوں میں ناموں کی تعداد 68.12 لاکھ کم ہو گئی، جس کے بعد نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔ کرناٹک کے بارے میں کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ نام خارج کرنے کے لیے عام طور پر فارم 7 شہری یا ووٹر جمع کراتا ہے، لیکن اس معاملے میں انتخابی حکام نے خود فارم 7 جمع کروا کر 61,059 افراد کے نام خارج کیے۔
 
کھڑگے نے آندھرا پردیش میں فارم 7 کی 20,959 درخواستوں کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان میں اعتراض کرنے والوں کے طور پر خود انتخابی حکام کے نام درج تھے۔ اوڈیشہ کے دھام نگر میں نام خارج کرنے کے لیے 3,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول افسران نے اس عمل کے غلط استعمال کا الزام لگایا تھا۔ تلنگانہ میں انتخابی فہرست کے مسودے سے 73.39 لاکھ نام خارج کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
 
جھارکھنڈ کے چھترا اسمبلی حلقے میں فارم 7 کی 4,790 درخواستیں موصول ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ یہ تعداد ریاست بھر میں موصول ہونے والی کل درخواستوں کا تقریباً 36 فیصد ہے۔ ہریانہ میں تصدیق کے لیے 44.91 لاکھ نوٹس جاری کیے جانے اور یکم اکتوبر تک 4.35 لاکھ سماعتیں زیر التوا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ دہلی کے بارے میں کھڑگے نے کہا کہ انتخابی فہرست کے مسودے سے 47.5 لاکھ نام خارج کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میڈیا کی تحقیقات کے بعد فارم 6 کی درخواستوں پر کارروائی سے متعلق اعداد و شمار میں نظرثانی کی گئی۔
 
کھڑگے نے گوا کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ECINet نظام میں ’رول بیک‘ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے 97 اہل ووٹروں کو ابتدائی طور پر دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ کانگریس صدر نے ان تمام معاملات کو انتخابی عمل کی شفافیت سے جوڑتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان الزامات کے درمیان یکم نومبر کی اپوزیشن ریلی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم، پیش کیے گئے اعداد و شمار اور الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔