بھارتی سیاست میں 28اکتوبر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چار ریاستوں میں ایم ایل سی کی 28 نشستوں پر ہوئے انتخابات کے نتائج نے کانگریس کے لیے سخت مایوسی کی تصویر پیش کی ہے۔ اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک میں کانگریس پارٹی ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی ، جب کہ کئی حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے کامیابی حاصل کی ۔ یہ انتخابی عمل ریاستی قانون ساز کونسلوں کی مخصوص نشستوں، خصوصاً اساتذہ اور گریجویٹس حلقوں، کے لیے منعقد ہوئے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ نتیجہ اپوزیشن صفوں کے لیے ایک معنی خیز اشارہ ہے۔ ادھر پی ایم مودی نے ان نتائج پر کانگریس کو نشانہ بنایا۔
کرناٹک میں کانگریس حکومت کو لگا جھٹکا
کرناٹک میں نتیجہ کانگریس کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوا، حالانکہ ریاست میں حکومت اسی جماعت کی ہے اور اس نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے باوجود ایم ایل سی انتخابات میں کانگریس چار نشستیں ہار گئی۔ بنگلورو اساتذہ حلقے میں جے ڈی ایس کے امیدوار اے پی رنگناتھ نے کانگریس کے سٹنگ ایم ایل سی پٹنّا کو شکست دی، یوں سابقہ کانگریسی نشست این ڈی اے صف میں چلی گئی۔ اسی کے ساتھ نارتھ ایسٹ ٹیچرز، ویسٹ گریجویٹس اور ساوتھ ایسٹ گریجویٹس کی نشستیں بی جے پی نے اپنے نام کیں۔ اس طرح بی جے پی اور جے ڈی ایس کی مشترکہ حکمت عملی نے ریاست میں 4 ایم ایل سی سیٹیں حاصل کر کے حکمران جماعت کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔
ایم ایل سی نتائج پرپی ایم مودی کا طنز
چار ریاستوں میں ہوئے ایم ایل سی ضمنی انتخابات میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان نتائج پر طنزیہ ردعمل ظاہر کیا۔ یہ یاد دلاتے ہوئے کہ انتخابات بیلٹ پیپرز سے ہوئے تھے، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا اور لوگوں سے اندازہ لگانے کو کہا کہ کانگریس نے کتنی سیٹیں جیتی ہیں۔ پی ایم نے اس میں ایک 'مونوکل' ایموجی شامل کیا۔
پی ایم مودی پر کانگریس کی تنقید
ان نتائج کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کانگریس پر تنقید کی۔ کانگریس نے پہلے ووٹنگ مشینوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات بیلٹ پیپرز سے کرائے جائیں۔ اس تناظر میں مودی نے یاد دلایا کہ ایم ایل سی انتخابات صرف بیلٹ پیپرز سے ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے کانگریس پر ایک بھی سیٹ نہ جیتنے پر بالواسطہ تنقید کی۔
4 ریاستوں میں ایم ایل سی انتخابات
کانگریس کرناٹک، مہاراشٹر اور اتر پردیش اور بہار میں کوئی بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ کرناٹک میں، جہاں کانگریس برسراقتدار ہے، بی جے پی نے تین نشستیں جیتی ہیں جبکہ اس کی اتحادی جماعت جے ڈی (ایس) نے ایک نشست حاصل کی،۔ اور حکمراں جماعت ایک بھی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔
تادم تحریر ،مہاراشٹر میں، بی جے پی نے ایک سیٹ جیتی اور دوسری پر آگے چل رہی تھی، جب کہ شیو سینا ایکناتھ شندے کی قیادت میں ایک سیٹ پر آگے تھی۔ این سی پی (شرد چندر پوار) نے ایک سیٹ جیت لی اور دوسری پر آگے چل رہی تھی، کانگریس کو بغیر جیت کے چھوڑ دیا۔
اتر پردیش میں، بی جے پی نے چار سیٹیں جیتی ہیں اور دو پر آگے ہے، جب کہ سماج وادی پارٹی دو پر جیت رہی ہے اور تین پر آگے ہے۔ کانگریس ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔
بہار میں، بی جے پی کے نریندر پرساد سنگھ نے ترہت ٹیچرس کی سیٹ جیت لی، جب کہ اس کے سرویش سنگھ دربھنگہ گریجویٹس میں اور ڈاکٹر این کے یادو کوسی گریجویٹس میں آگے تھے۔
ترہت گریجویٹس میں آزاد امیدوار ونشی دھر برجواسی آگے تھے۔ جے ڈی (یو) کے نیرج کمار نے پٹنہ گریجویٹ جیت لیا، جب کہ آزاد امیدوار اور بی جے پی کے باغی راہل راج نے سرن ٹیچرز جیتے۔ جن سورج پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر سریش پرساد رے نے دربھنگہ ٹیچرز میں کامیابی حاصل کی، جب کہ آر جے ڈی کے ڈاکٹر سنجیو کمار نے پٹنہ ٹیچرز میں کامیابی حاصل کی۔
واضح رہےکہ اتر پردیش میں چھ اساتذہ اور پانچ گریجویٹ حلقوں، بہار میں چار چار، کرناٹک میں دو، اور مہاراشٹر میں تین گریجویٹ اور دو اساتذہ کے حلقوں کے انتخابات 23 اکتوبر کو ہوئے۔






