امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن آیت اللہ محسن حیدری الکثیر کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران دو مرتبہ موت کے قریب پہنچے، لیکن دونوں بار محفوظ رہے۔ محسن حیدری نے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 28 فروری کو تہران میں اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس حملے میں علی خامنہ ای اپنے بعض قریبی ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت ہلاک ہوئے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعض میڈیا رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی ہلاکت کے دوران زخمی ہوئے تھے اور اس کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
محسن حیدری کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے خطرہ ہسپتال پہنچنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تہران کے تین ہسپتالوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں وہ ہسپتال بھی شامل تھا جہاں مجتبیٰ زیر علاج تھے۔ حیدری کے مطابق بمباری سے ہسپتال شدید متاثر ہوا اور مجتبیٰ خامنہ ای کو دوبارہ ملبے سے نکالا گیا۔ بعد میں انہیں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ حالت اور مقام کے بارے میں بھی طویل عرصے سے قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں۔ تاہم رائٹرز نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ وہ اپنے والد کی ہلاکت کے وقت زخمی ہوئے تھے اور اس کے بعد عوامی طور پر سامنے نہیں آئے۔
محسن حیدری کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے کا فیصلہ بھی ایک غیر معمولی صورتحال میں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب 8 مارچ کو سرکاری ٹی وی پر نئے سپریم لیڈر کے نام کا اعلان کیا گیا تو خود مجتبیٰ کو بھی اس انتخاب کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔ ان کے مطابق جب یہ تصدیق ہوئی کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک کی قیادت سنبھالنے کے لیے صحت مند ہیں تو انہوں نے سب سے پہلے ان کا نام تجویز کیا۔
ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری اسمبلی آف ایکسپرٹس کے پاس ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اجلاس میں 59 ووٹ ڈالے گئے، جن میں 50 مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں، 8 آیت اللہ علی رضا اعرافی کے حق میں پڑے جبکہ ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ غیرملکی میڈیا کی حالیہ رپورٹ میں بھی مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا موجودہ سپریم لیڈر قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے والد کی ہلاکت کے بعد زخمی ہوئے تھے۔







