Tuesday, November 03, 2026 | 22 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران کے جزیرہ قشم میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات، آسمان پر دو طیارے بھی دیکھے گئے

ایران کے جزیرہ قشم میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات، آسمان پر دو طیارے بھی دیکھے گئے

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 03 Nov 2026

ایران کے جزیرہ قشم میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات، آسمان پر دو طیارے بھی دیکھے گئے
آبنائے ہرمز کے قریب بندر لنگہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں
 ایرانی حکام نے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا
 
ایران کے جزیرہ قشم میں پانچ دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مقامی رہائشیوں نے آسمان پر دو طیاروں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی دھماکوں کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے آئی ہے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز کے قریب واقع بندر لنگہ کے علاقے میں بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، وہاں سنی گئی دھماکوں کی آوازیں سمندر کی جانب سے آئی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں گزشتہ چند راتوں کے دوران بھی دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دی تھیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
 
پہلے بھی دھماکوں کو فوجی سرگرمیوں سے جوڑا گیا
 
ایران کے ان علاقوں میں گزشتہ راتوں کے دوران ہونے والے دھماکوں کے بارے میں ایرانی حکام کی جانب سے مختلف وضاحتیں دی جاتی رہی ہیں۔ بعض مواقع پر ان آوازوں کو فوجی سرگرمیوں سے منسوب کیا گیا، جبکہ کچھ واقعات کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اسلامی انقلابی گارڈ کور، یعنی آئی آر جی سی کی کارروائیوں کا نتیجہ تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق، آئی آر جی سی نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی تھی جن پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے غیر مجاز راستے استعمال کرنے کا الزام تھا۔ تاہم تازہ دھماکوں کے حوالے سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان کا تعلق کسی فوجی سرگرمی سے ہے یا ان کے پیچھے کوئی دوسری وجہ ہے۔
 
جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ
 
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کے حوالے سے مختلف خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی امید بھی موجود ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ جزیرہ قشم اور بندر لنگہ میں ہونے والے دھماکوں کی اصل وجہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے سرکاری وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم ہو سکیں گی۔