Tuesday, November 03, 2026 | 22 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • رام مندرعطیات میں مبینہ گھوٹالے کا معاملہ، سپریم کورٹ نے نگرانی ختم کی

رام مندرعطیات میں مبینہ گھوٹالے کا معاملہ، سپریم کورٹ نے نگرانی ختم کی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 03 Nov 2026

رام مندرعطیات میں مبینہ گھوٹالے کا معاملہ، سپریم کورٹ نے نگرانی ختم کی
یوپی پولیس نے چارج شیٹ داخل کرنے کی اطلاع دی
 اب مجسٹریٹ عدالت شواہد اور الزامات کا جائزہ لے کر آگے کی کارروائی کرے گی
 
ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات سے متعلق مبینہ مالی گھوٹالے اور نقد رقم کی چوری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں اپنی نگرانی ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب متعلقہ مجسٹریٹ عدالت قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پولیس کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا کہ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اب ٹرائل کورٹ ہی دستیاب شواہد اور قانون کی بنیاد پر مقدمے کو آگے بڑھائے گی۔
 
عطیہ بکس سے نقد رقم نکالنے کے 105 واقعات کا دعویٰ
 
سماعت کے دوران تفتیش سے متعلق یہ تفصیلات بھی سامنے آئیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر عطیہ بکس سے مبینہ طور پر بغیر اجازت نقد رقم نکالنے کے 105 واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تفتیش کاروں کو اس معاملے میں آٹھ افراد کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا سراغ بھی ملا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس نے نہ تو الزامات کی سچائی پر کوئی رائے دی ہے اور نہ ہی کسی فریق کے موقف کی حمایت کی ہے۔ عدالت کے مطابق، اب ان تمام پہلوؤں کا جائزہ ماتحت عدالت میں لیا جائے گا۔
 
درخواست گزاروں کو مجسٹریٹ عدالت میں تعاون کی اجازت
 
اس معاملے میں درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے سی بی آئی انکوائری، ایک آزاد تحقیقاتی ایجنسی کی تشکیل اور مندر ٹرسٹ کے مالی لین دین کی جامع جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے معاملے کی پیش رفت پر نظر رکھتے ہوئے اتر پردیش کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے رپورٹیں بھی طلب کی تھیں۔ تاہم چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد بنچ نے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت اور کارروائی کے لیے مناسب فورم مجسٹریٹ کی عدالت ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے درخواست گزاروں کو اجازت دی کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے جاری فوجداری کارروائی میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تعاون کر سکتے ہیں۔
 
اب مجسٹریٹ عدالت میں ہوگا مقدمے کا اگلا مرحلہ
 
واضح رہے کہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات کی گنتی اور حفاظت کے نظام پر سوالات اٹھنے کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ مبینہ بے ضابطگیوں کی خبریں آنے کے بعد متعدد عرضیاں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔ اب مجسٹریٹ عدالت چارج شیٹ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد قانون کے مطابق سمن جاری کرنے، گواہوں اور شواہد کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر فرد جرم عائد کرنے جیسے مراحل طے کیے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد اب مقدمے کی مزید کارروائی ماتحت عدالت میں ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ الزامات پر فیصلہ شواہد اور قانونی طریقہ کار کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔