انسانی حقوق کے تحفظ، جنگی جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے طویل جدوجہد کے اعتراف میں جنوبی افریقہ کی معروف قانون دان اور اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر نیوانتھم ناوی پلے کو 2026 کا نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق، ناوی پلے نے انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون سے متعلق اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کمیٹی نے ان کی قانونی مہارت، آزادانہ سوچ اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کو غیر معمولی قرار دیا۔
ناوی پلے 23 دسمبر 1941 کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک بھارتی تامل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت ملک میں نسلی امتیاز کا نظام رائج تھا۔ انہوں نے وکالت کے شعبے میں قدم رکھا اور اس نظام کے خلاف قانونی جدوجہد کرتے ہوئے ان افراد کا دفاع کیا جنہیں نسلی اور سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔ اپنے ابتدائی کیریئر میں انہوں نے نیلسن منڈیلا سمیت نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے والے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے حقوق کے لیے مقدمات لڑے۔ بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں جج بننے والی پہلی غیر سفید فام خاتون قرار پائیں۔
ناوی پلے نے اپنے طویل قانونی کیریئر کے دوران جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ اور روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں۔ اس عہدے پر انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور ان کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، وہ میانمار کے خلاف نسل کشی سے متعلق مقدمے میں عالمی عدالت انصاف میں بھی جج کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، نوبیل امن انعام کے تحت ناوی پلے کو 12 ملین سویڈش کرونر، یعنی تقریباً 11.66 کروڑ بھارتی روپے کی انعامی رقم ملے گی۔ انہیں یہ اعزاز 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پیش کیا جائے گا۔2026 کا نوبیل امن انعام اس سال مختلف شعبوں میں دیے جانے والے نوبل انعامات کے سلسلے میں پانچواں اعلان بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل ادب، کیمسٹری، طبیعیات اور طب کے شعبوں میں انعامات کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ 2025 کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔ ناوی پلے کی زندگی اور کیریئر نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد سے لے کر بین الاقوامی عدالتی اداروں میں خدمات تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی خدمات نے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔







