Saturday, October 24, 2026 | 12 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • این سی ای آر ٹی کا بڑا قدم، نویں سے بارہویں جماعت تک اے آئی کی تعلیم

این سی ای آر ٹی کا بڑا قدم، نویں سے بارہویں جماعت تک اے آئی کی تعلیم

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 24 Oct 2026

این سی ای آر ٹی کا بڑا قدم، نویں سے بارہویں جماعت تک اے آئی کی تعلیم
وزارتِ تعلیم کے ماتحت نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) نے نویں سے بارہویں جماعت کے طلباء کے لیے کمپیوٹیشنل تھنکنگ (Computational Thinking) اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی ایک نیا تعارفی ماڈیول تیار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء کی تنقیدی سوچ، منطقی استدلال، تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ماڈیول قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ طلباء کو اس سے استفادہ کرنے کے لیے کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت یا جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں پہلے سے کسی خصوصی معلومات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ماڈیول کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے طلباء بھی آسانی سے اس کے بنیادی تصورات کو سمجھ سکیں۔
 
NCERT کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، اس ماڈیول میں کمپیوٹیشنل تھنکنگ کو مسائل کی شناخت کرنے، ان کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور منظم و منطقی انداز میں حل تلاش کرنے کے طریقے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے طلباء کو پیچیدہ مسائل کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ اس کا مقصد صرف تکنیکی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ طلباء میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا بھی ہے جو روزمرہ زندگی اور مستقبل کی تعلیم میں ان کے کام آ سکیں۔ ماڈیول طلباء کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دے گا کہ مصنوعی ذہانت کیا ہے، یہ کس طرح کام کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں اس کا استعمال کن طریقوں سے کیا جا رہا ہے۔
 
NCERT نے اس ماڈیول کو سرگرمیوں پر مبنی تدریسی طریقے کے تحت تیار کیا ہے، تاکہ طلباء محض نظریاتی معلومات حاصل کرنے کے بجائے عملی طور پر بھی سیکھ سکیں۔ اس میں گروہی مباحثے، عملی مشقیں، تجربات اور خود احتسابی جیسی سرگرمیاں شامل کی گئی ہیں۔ ڈیجیٹل وسائل تک رسائی میں موجود فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ماڈیول کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کی سرگرمیاں کمپیوٹر، ڈیجیٹل آلات اور انٹرنیٹ کے ساتھ یا ان کے بغیر بھی انجام دی جا سکیں۔ اس انتظام سے ان اسکولوں کے طلباء کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے جہاں کمپیوٹر لیب، انٹرنیٹ یا دیگر ڈیجیٹل سہولیات محدود ہیں۔ اس طرح ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ طلباء تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
 
اس نئے ماڈیول میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ طلباء کو ڈیجیٹل سیکیورٹی، ذاتی معلومات کی رازداری اور انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کا تنقیدی جائزہ لینے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، انہیں غلط معلومات اور تعصب (Bias) کی نشاندہی کرنے اور ان کے اثرات کو سمجھنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔ ماڈیول میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ معلومات کو بغیر جانچ پڑتال کے درست تسلیم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کی حقیقت اور درستگی کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
 
NCERT کے اس اقدام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران انسانی فیصلے، تخلیقی صلاحیتوں اور اخلاقی ذمہ داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد طلباء کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ اس کی حدود اور ممکنہ مسائل سے بھی واقف کرانا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ماڈیول اسکولی تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ پیدا کرنے اور طلباء کو مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے طلباء میں نہ صرف AI سے متعلق آگاہی بڑھے گی، بلکہ وہ معلومات کا تجزیہ کرنے، سوال اٹھانے اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی بہتر بنا سکیں گے۔