تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں واقع راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (RIMS) اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آدھی رات کے بعد اچانک آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں ایک نومولود بچے کی موت کی اطلاع ہے۔ آگ لگنے کے وقت وارڈ میں کئی بچے زیرِ علاج تھے، جس کے باعث اسپتال میں کچھ دیر کے لیے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں نصب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وارڈ دھوئیں سے بھر گیا۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپتال کے عملے اور بچوں کے تیمار داروں نے فوری طور پر کارروائی شروع کی اور وارڈ میں موجود بچوں کو باہر نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ حادثے کے وقت وارڈ میں تقریباً 28 بچے زیرِ علاج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ تمام بچوں کو فوری طور پر عادل آباد کے مختلف نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دیگر بچے محفوظ ہیں۔
عادل آباد ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے. ناگراجو کے مطابق، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ اے سی یونٹ میں شارٹ سرکٹ معلوم ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آگ کی اصل وجہ اور حادثے کی مکمل تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔ پولیس افسر کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 23 بچے موجود تھے۔ انہوں نے فوری طور پر کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی باضابطہ تعداد کی تصدیق نہیں کی، تاہم نومولود بچے کی موت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی عادل آباد کے ڈسٹرکٹ کلکٹر راجارشی شاہ اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھل مہاجن اسپتال پہنچے۔ RIMS کے ڈائریکٹر جے سنگھ راٹھوڑ بھی موقع پر موجود رہے۔ حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ اسپتال کے عملے سے امدادی کارروائیوں اور آگ لگنے کے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم بھی فوری طور پر موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پالیا۔ اس کے بعد وارڈ میں موجود بچوں کو احتیاطاً مختلف نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
RIMS جیسے سرکاری طبی مرکز کے چلڈرن وارڈ میں آگ لگنے کے واقعے نے اسپتال کے فائر سیفٹی اور برقی نظام سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ اے سی یونٹ میں خرابی کیوں پیدا ہوئی اور کیا اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اصولوں پر مناسب طریقے سے عمل کیا جا رہا تھا۔حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مکمل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ اور ذمہ داری سے متعلق صورتحال واضح ہو سکے گی۔






