Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • شہباز شریف کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت، لانگ مارچ واپس لینے کی اپیل

شہباز شریف کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت، لانگ مارچ واپس لینے کی اپیل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

شہباز شریف کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت، لانگ مارچ واپس لینے کی اپیل
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی اور متنازعہ معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے اور اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو واپس لے۔ شہباز شریف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ مارچ کے شرکا آئندہ دنوں میں وفاقی دارالحکومت پہنچنے اور وہاں احتجاجی دھرنا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
 
اسلام آباد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے سیاسی مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق یہی معاملات ایک بار پھر لانگ مارچ کی شکل میں سامنے آ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو سیاسی کشیدگی کے بجائے بات چیت اور مفاہمت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت سیاسی معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اختلافات کو سڑکوں پر احتجاج کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیا جا سکتا ہے۔
 
دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور اپنے دیگر مطالبات کے لیے احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کارکنوں اور حامیوں کا قافلہ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پارٹی کی جانب سے دارالحکومت میں دھرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کے معاملے پر حکومت سے بات چیت کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پارٹی قیادت پہلے بھی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاج اور مارچ کا راستہ اختیار کرتی رہی ہے۔
 
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات گزشتہ کئی عرصے سے جاری ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری، ان کے خلاف مقدمات، سیاسی سرگرمیوں اور ملک میں سیاسی ماحول کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی تازہ پیشکش اور لانگ مارچ واپس لینے کی اپیل کے بعد اب توجہ اس بات پر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی اس دعوت پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور آیا دونوں فریق سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا احتجاج کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔