دہشت گردوں نے ایک بار پھر پاکستان میں قتل عام کی لہر دوڑادی ہے۔ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہفتے کے روز ایک خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 30 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔اس حملے میں ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں ایک سڑک پر واقع پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ خودکش حملہ آور، جو بارود سے بھری گاڑی میں آیا، اس نے چیک پوائنٹ کے قریب پہنچتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے سے علاقہ لرز اٹھا۔ واقعے میں جان و مال کا بھاری نقصان ہوا۔
پولیس نےبتایا کہ شمال مغربی پاکستان میں سڑک کے کنارے پولیس چوکی پر خودکش بم دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔مقامی پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ ہفتہ کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا۔پولیس چیف صفدر بلوچ نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکار اور راہگیر تھے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار، کسٹم اہلکار اور دو شہری شامل ہیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن شبہ پاکستانی طالبان پر پڑا، جسے ٹی ٹی پی کے مخفف سے جانا جاتا ہے۔
مسلح گروپ اور اس سے وابستہ افراد نے خطے میں حالیہ کئی حملے کیے ہیں۔ٹی ٹی پی 2021 میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ ہے لیکن اس کا قریبی ساتھی ہے۔
ریسکیو 1122 نے ایک بیان میں کہا کہ دھماکہ ضلع کے درازندہ علاقے میں امن میلہ کے قریب ہوا۔سروس نے بتایا کہ درازندہ اسٹیشن سے ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور انہیں ہسپتال لے گئے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں مسلح حملوں میں اضافہ دیکھا ہے، جن میں سے اکثر کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، یا بی ایل اے نے قبول کی ہے، جو ایک علیحدگی پسند گروپ ہے جو بنیادی طور پر پڑوسی صوبے بلوچستان میں سرگرم ہے۔پاکستانی حکام نے بارہا افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کے ارکان کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں سرحد پار سے حملوں کو روکے۔
پاکستان کی حکومت کے مطابق، تازہ ترین حملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ان کی جنوب مغربی سرحد پر لڑائی کے دو دن بعد ہوا ہے جس میں کم از کم 13 افغان طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔اس ہفتے افغانستان کے اندر مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستانی حملوں کے بعد پڑوسی ممالک کے درمیان یہ تازہ ترین کشیدگی ہے۔
نئی دشمنیوں سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی ثالثی کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن قائم کرنا ہے۔







