امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران عمان کے ساحل کے قریب پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ (MT On Peace) کو ایک حملہ آور شے سے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں جہاز کے عملے کے 12 ارکان زخمی ہوئے، جن میں 11 بھارتی شہری شامل ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا جب اسے پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 19 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 17 بھارتی شہری تھے۔ حملے کے بعد عمانی حکام کی مدد سے زخمی عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں عمان کے شہر خصب میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں منتقل کرنے میں مدد کرنے پر عمانی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر مسلسل حملے بھارت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ بھارت نے ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے مفاد میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت محفوظ بنانا ضروری ہے۔ وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
بھارت نے بین الاقوامی آبی راستوں کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت اور تجارت کو جلد از جلد معمول پر لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی بحری تجارت اور جہاز رانی کی سلامتی پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی پر پڑ سکتا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ خطے میں موجودہ صورتحال کے دوران تجارتی جہازوں اور ان پر موجود ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ زخمی بھارتی شہریوں کا عمان میں علاج جاری ہے اور ان کی صورتحال پر بھارتی حکام نظر رکھے ہوئے ہیں۔







