Tuesday, October 06, 2026 | 22 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • پٹنہ گریجویٹس حلقے پر سب کی نظریں، نیرج کمار کی جیت پر جے ڈی یو پراعتماد

پٹنہ گریجویٹس حلقے پر سب کی نظریں، نیرج کمار کی جیت پر جے ڈی یو پراعتماد

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 05 Oct 2026

پٹنہ گریجویٹس حلقے پر سب کی نظریں، نیرج کمار کی جیت پر جے ڈی یو پراعتماد
بہار میں ایم ایل سی کی آٹھ نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے درمیان پٹنہ گریجویٹس حلقہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس نشست پر جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) کے موجودہ رکن نیرج کمار اور جن سوراج کے امیدوار ڈاکٹر انوج سنگھ کے درمیان اہم مقابلہ بتایا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں جانب سے اپنی اپنی جیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس حلقے کے نتائج پر سیاسی حلقوں کی خاص نظر ہے۔
 
نیرج کمار کے لیے یہ انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ مسلسل چوتھی مرتبہ اس نشست سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی طویل سیاسی موجودگی اور حلقے میں مسلسل نمائندگی کے باوجود انتخابی مقابلے کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ خاص طور پر اننت سنگھ کی مخالفت سے متعلق سوالات نے جے ڈی یو امیدوار کی پوزیشن پر بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔
 
پیر، 5 اکتوبر 2026 کو جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش کشواہا سے نیرج کمار کے انتخابی امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اننت سنگھ کی مخالفت کی وجہ سے نیرج کمار کو اس بار شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں امیش کشواہا نے نیرج کمار کی کامیابی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ”نیرج کمار کیسے ہار سکتے ہیں؟ یہ ان کی مسلسل چوتھی مدت ہے، وہ چوتھی بار اپنی نشست برقرار رکھیں گے۔“امیش کشواہا کے اس بیان کو جے ڈی یو کی جانب سے اپنے امیدوار پر اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نیرج کمار کی سابقہ کامیابیاں اور ان کا سیاسی تجربہ ان کے لیے اہم عوامل ہیں۔
 
دوسری جانب جن سوراج نے ڈاکٹر انوج سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ ان کی امیدواری نے پٹنہ گریجویٹس حلقے کے مقابلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ جن سوراج کی جانب سے بھی انتخابی میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پٹنہ گریجویٹس حلقے کے نتائج اس لیے بھی اہم ہوں گے کیونکہ یہ مقابلہ ریاست کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں مختلف جماعتوں اور امیدواروں کی عوامی حمایت کا ایک اشارہ فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم جے ڈی یو کے ریاستی صدر کی جانب سے نیرج کمار کی جیت کے دعوے کے باوجود حتمی فیصلہ ووٹنگ اور گنتی کے بعد ہی ہوگا۔ فی الحال سیاسی حلقوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا نیرج کمار مسلسل چوتھی بار اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ڈاکٹر انوج سنگھ انہیں سخت مقابلہ دیتے ہیں۔