مدھیہ پردیش کے اندور میں کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی نقل اتارنے پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ پروگرام میں کامیڈین پلکت منی نے وزیر اعظم مودی کے اندازِ گفتگو اور غیر ملکی رہنماؤں سے بات چیت کے انداز کی نقل کی، جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کی۔ پروگرام کے دوران کامیڈین نے مودی کے معروف اندازِ گفتگو کی نقل کرتے ہوئے ’’مائی فرینڈ‘‘ جیسے جملوں کا بھی استعمال کیا۔
اس اسٹیج ایکٹ میں وزیر اعظم کی والدہ سے متعلق ایک جملہ بھی شامل تھا، جس پر بی جے پی رہنماؤں نے اعتراض کیا اور اسے نامناسب قرار دیا۔بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن وزیر اعظم کی آنجہانی والدہ سے متعلق تبصرہ قابل اعتراض ہے۔ پارٹی کے کئی رہنماؤں نے راہل گاندھی سے اس معاملے پر معذرت کا مطالبہ بھی کیا۔ بی جے پی ترجمان سی آر کیشوَن نے الزام لگایا کہ پروگرام میں ایک بزرگ خاتون اور خواتین کے احترام کے معاملے کو بھی نامناسب انداز میں پیش کیا گیا۔
اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک سمیت دیگر بی جے پی رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر اعتراض کیا۔ پارٹی کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ راہل گاندھی کی موجودگی میں ہونے والے اس پروگرام میں ایسے تبصروں کی اجازت کیوں دی گئی۔ دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بی جے پی کی تنقید کو مسترد کیا ہے۔ کانگریس کے مطابق یہ ایک کامیڈی اور مِمکری کا پروگرام تھا اور اسے سیاسی توہین کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگاتا رائے نے بھی کہا کہ سیاست میں مزاح کی گنجائش ہونی چاہیے اور ان کے مطابق اس پروگرام میں کسی کی توہین نہیں کی گئی۔
کانگریس لیڈر بھُوپیش بگھیل نے بھی بی جے پی کے اعتراض پر ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ماضی میں راہل گاندھی یا دیگر سیاسی رہنماؤں کی ماؤں کے بارے میں تبصرے کیے گئے تو اس وقت ایسے ہی اعتراضات کیوں نہیں کیے گئے۔ بگھیل نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی ماضی میں ماؤں کے احترام سے متعلق متنازع تبصروں کے الزامات عائد کیے۔ یوں اندور کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام میں ہونے والی مِمکری اب سیاسی بیان بازی کا موضوع بن گئی ہے، جہاں بی جے پی اسے نامناسب سیاسی طرزِ عمل قرار دے رہی ہے، جبکہ کانگریس اور اس کے حامی اسے مزاح اور مِمکری کا حصہ بتا رہے ہیں۔







