کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق بیان پر سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی نے اسے وزیر اعظم کے آنجہانی والد کی توہین قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ کانگریس نے وضاحت کی ہے کہ کھرگے کا تبصرہ وزیر اعظم کے والد کے بارے میں نہیں بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی قیادت کے حوالے سے تھا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ایک بیان نے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اتوار کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک پروگرام کے دوران کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایسا تبصرہ کیا جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت اعتراض کیا۔ بی جے پی نے اس بیان کو وزیر اعظم کے آنجہانی والد کی توہین قرار دیتے ہوئے کانگریس پر سیاسی شائستگی کی حدود پار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس معاملے پر بی جے پی نے آج ملک بھر میں ریاستی ہیڈکوارٹرز پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے کھرگے کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس سے جواب طلب کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ملکارجن کھرگے اتوار کو پٹنہ میں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ ’’مودی نہیں جائیں گے۔‘‘ اس کے جواب میں کھرگے نے کہا، ’’مودی کے باپ بھی جائیں گے۔‘‘کھرگے کے اس جملے کے بعد سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا۔ بی جے پی نے اسے وزیر اعظم کے خاندان کی توہین قرار دیا، جبکہ کانگریس نے اس بیان کی مختلف وضاحت پیش کی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت بی جے پی کے کئی سینئر رہنماؤں نے کھرگے کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ کانگریس صدر نے اپنے تبصرے کے ذریعے سیاسی گفتگو میں شائستگی کی حدیں پار کی ہیں۔ بی جے پی نے اس معاملے کو عوام کے درمیان اٹھانے کے لیے ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے بارے میں اس طرح کے تبصرے قابلِ اعتراض ہیں۔
دوسری جانب، وزیر اعظم مودی کے بارے میں متنازعہ تبصرے کے سلسلے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے خلاف پٹنہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کے الزامات کے جواب میں واضح کیا کہ کھرگے کا تبصرہ وزیر اعظم کے والد کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریاتی قیادت سے تھا۔ اس طرح ایک بیان پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی محاذ آرائی تیز ہوگئی ہے۔ اب اس معاملے میں پولیس شکایت اور دونوں جماعتوں کے آئندہ اقدامات پر توجہ مرکوز ہے۔






