تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی آج ممبئی میں مہاراشٹر کے چیف منسٹر دیویندر فڑنویس سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان پراناہیتا ندی پر مجوزہ تممیڈی ہیٹی بیراج کی اونچائی، سیلاب پر قابو پانے اور پانی کی دستیابی جیسے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال ہوگا۔ تلنگانہ حکومت بیراج کی اونچائی 152 میٹر مقرر کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔
تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی آج ممبئی کا دورہ کرتے ہوئے مہاراشٹر کے چیف منسٹر دیویندر فڑنویس سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں ریاستوں کے درمیان آبی وسائل سے متعلق مسائل اور پراناہیتا ندی پر مجوزہ تممیڈی ہیٹی بیراج کے منصوبے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں تلنگانہ کے وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی، محکمہ آبپاشی کے سینئر عہدیداروں اور بین ریاستی آبی وسائل سے متعلق محکمہ کے انجینئروں کی اعلیٰ سطحی ٹیم بھی شرکت کرے گی۔ ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ کا وفد اتوار کی رات ہی ممبئی پہنچ گیا۔
تممیڈی ہیٹی بیراج کی اونچائی اس اجلاس کا اہم موضوع ہوگی۔ تلنگانہ حکومت کی تجویز ہے کہ منصوبے سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے بیراج کی اونچائی 152 میٹر مقرر کی جائے۔ اس سلسلے میں ریاست کے محکمہ آبپاشی کے انجینئروں نے ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے، جس میں تکنیکی اعداد و شمار اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت اس منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے بیراج کی مناسب اونچائی کے تعین کو اہم سمجھتی ہے۔ تاہم، اس تجویز پر دونوں ریاستوں کے درمیان بات چیت اور تکنیکی امور کا جائزہ ضروری ہوگا۔
اجلاس میں صرف بیراج کی اونچائی ہی نہیں، بلکہ سیلاب کی روک تھام اور پانی کی دستیابی سے متعلق مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ریاستوں کے عہدیدار آبی وسائل کے بہتر استعمال اور منصوبے سے متعلق تکنیکی پہلوؤں پر اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ تلنگانہ کے انجینئروں کی تیار کردہ رپورٹ اس ملاقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ اس میں بیراج کی مجوزہ اونچائی سے متعلق تکنیکی تفصیلات شامل ہیں۔
ریونت ریڈی اور دیویندر فڑنویس کی یہ ملاقات تلنگانہ اور مہاراشٹر کے درمیان آبی وسائل سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور تکنیکی تجاویز کی بنیاد پر منصوبے کے مستقبل سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔ تاہم، بیراج کی حتمی اونچائی کے بارے میں فیصلہ دونوں ریاستوں کے درمیان مشاورت اور متعلقہ تکنیکی امور کے جائزے کے بعد ہی واضح ہوگا۔






