خلیج بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا علاقہ اتوار کو سمندری طوفان میں تبدیل ہوگیا، جس کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں موسم خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سمندری طوفان ارنب کے باعث آندھرا پردیش، تمل ناڈو، اڈیشہ، کیرالہ اور پڈوچیری میں بھاری بارش ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفان 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس دوران تیز ہواؤں اور شدید بارش کے باعث کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے طوفان کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہوئے مختلف ریاستوں کے لیے بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اتر پردیش، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ، دہلی اور پنجاب سمیت کئی علاقوں میں بھاری بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو اور کیرالہ بھی طوفان سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، سمندری طوفان کے دوران ہوا کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ تیز ہواؤں اور بارش کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ طوفان کی شدت اور اس کے راستے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔
سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر اڈیشہ حکومت نے کئی اضلاع میں تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاری احکامات کے مطابق، 28 اور 29 اکتوبر کو متعلقہ اضلاع کے تمام اسکول، کالج اور آنگن واڑی مراکز بند رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے صورتحال سے نمٹنے اور انتظامی تیاریوں کی نگرانی کے لیے آٹھ وزراء کو حساس اضلاع میں تعینات کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے طوفان کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہوئے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو بھی موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، موسم سرما قریب آتے ہی دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہوا کا معیار خراب ہونے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور حاملہ خواتین آلودہ ہوا سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے آلودگی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ ہوا دل کی صحت کو بھی متاثر کرسکتی ہے، جس سے سنگین طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور آلودگی سے بچنے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی صحت کو محفوظ رکھا جاسکے۔






