Monday, October 26, 2026 | 14 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سلطان پور عدالت سے راہل گاندھی کو راحت، امت شاہ سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمے میں بری

سلطان پور عدالت سے راہل گاندھی کو راحت، امت شاہ سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمے میں بری

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 26 Oct 2026

سلطان پور عدالت سے راہل گاندھی کو راحت، امت شاہ سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمے میں بری
 
اتر پردیش کے ضلع سلطان پور کی ایک عدالت نے کانگریس رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے بارے میں دیے گئے ایک بیان سے متعلق تھا۔ اسپیشل مجسٹریٹ شبھم ورما کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت راہل گاندھی بھی عدالت میں موجود تھے۔ اس مقدمے میں بی جے پی رہنما اور ڈسٹرکٹ کوآپریٹو بینک کے سابق چیئرمین وجے مشرا نے 4 اگست 2018 کو شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کے بیان سے امت شاہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور یہ مجرمانہ ہتکِ عزت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے 27 نومبر 2023 کو راہل گاندھی کو مقدمے کی سماعت کے لیے طلب کیا تھا۔ بعد میں وہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہیں ضمانت مل گئی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران شکایت کنندہ وجے مشرا نے راہل گاندھی کی آواز کا نمونہ لینے کی درخواست بھی دی تھی، لیکن ٹرائل کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔
 
یہ معاملہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران دیے گئے ایک بیان سے جڑا ہے۔ اس وقت راہل گاندھی نے بنگلورو میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ان کی سیاسی ساکھ پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امت شاہ قتل کے ایک مقدمے میں ملزم رہ چکے ہیں۔ اس بیان کے بعد وجے مشرا نے سلطان پور کی عدالت میں شکایت درج کرائی اور الزام لگایا کہ راہول گاندھی کے تبصرے سے امت شاہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب، راہول گاندھی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے شکایت کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا تھا۔
 
کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سلطان پور کی عدالت نے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ انہوں نے فیصلے کو جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک آئین کے مطابق چلے گا۔ انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں ’ستیہ میو جیتے‘ بھی لکھا۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے بھی فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو ہراساں کرنے کی حکومتی کوششیں بالآخر ناکام ہوں گی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں آئین کی بالادستی پر زور دیا۔
 
دوسری جانب، بی جے پی رہنما جگدمبیکا پال نے کہا کہ عدالت سے بری ہونے کے باوجود راہل گاندھی کو عوام کی جانب سے معافی نہیں ملے گی۔ انہوں نے راہل گاندھی کی برکس پارلیمانی کانفرنس میں عدم شرکت پر بھی سوال اٹھایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس رہنماؤں کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں کے درمیان سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ جہاں کانگریس نے اسے آئین اور جمہوریت کی جیت قرار دیا، وہیں بی جے پی نے راہل گاندھی پر تنقید جاری رکھی۔