برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے سخت مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کرلی۔ سرکاری نتائج کے مطابق، لولا نے 51.7 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف فلاویو بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔ فلاویو، برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انتخابی حکام نے لولا کی کامیابی کا اعلان کیا۔ لولا کی یہ جیت ان کے طویل سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے سخت مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر ملک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ ان کی کامیابی لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کے برعکس سامنے آئی ہے، جہاں حالیہ برسوں میں دائیں بازو کے کئی امیدواروں کو کامیابی ملی ہے۔
لولا ڈا سلوا نے اپنی کامیابی کے بعد ساؤ پاؤلو میں جمع حامیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب جھوٹ اور حقائق سے انکار کرنے والی سوچ کی شکست ہے۔ لولا نے برازیل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے طویل عرصے تک ان پر اعتماد برقرار رکھا۔ انہوں نے جمہوریت کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں اور ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والے بزرگ شہریوں کی بھی تعریف کی۔ لولا کی یہ کامیابی ان کے سیاسی کیریئر میں ایک نیا باب ہے۔ ان کی واپسی کو برازیل کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لولا نے اپنے خطاب میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب بھی واضح پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل کسی دوسرے ملک کے زیر اثر یا تابع رہنے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان ملک کی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی پر زور دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
برازیل میں انتخابی دن ووٹنگ کے اوقات اور انتظامات کو لے کر بھی تنازعہ سامنے آیا۔ لولا کی انتخابی مہم نے الزام لگایا کہ کچھ مقامی حکومتوں کی جانب سے بس خدمات کم کیے جانے کے باعث ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔ اسی بنیاد پر ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا۔ فلاویو بولسونارو نے بھی بعض ریاستوں میں شدید بارش کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی حمایت کی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس کرسٹیانو زانن نے ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے اسے شام سات بجے تک کردیا۔ تاہم، بعض پولنگ اسٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پہلے ہی بند ہوچکی تھیں۔
نتائج سامنے آنے کے بعد فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج کو ناقابلِ فہم قرار دیا اور کہا کہ وہ انتخابات کو کالعدم قرار دلانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ برازیل سے دستبردار نہیں ہوں گے اور لوگوں کو بھی ہمت نہ ہارنے کا پیغام دیا۔ سخت مقابلے کے بعد لولا کی کامیابی نے برازیل کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کی جیت سے یہ واضح ہوا کہ ملک کے ووٹرز کی رائے دو بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان تقریباً برابر تقسیم رہی، تاہم آخری نتیجہ لولا کے حق میں گیا۔






