کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی ہتکِ عزت کے تقریباً آٹھ سال پرانے مقدمے میں سماعت کے لیے سلطان پور کی عدالت پہنچنے والے ہیں۔ لکھنؤ آمد پر کانگریس کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔ اتر پردیش کانگریس کی صدر ارادھنا مشرا نے کہا کہ پارٹی کو عدالت پر پورا بھروسہ ہے اور انہیں انصاف ملنے کی امید ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی ہتکِ عزت کے مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں ہونے والی سماعت میں شرکت کے لیے لکھنؤ پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد پر کانگریس کارکنوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ راہول گاندھی کو اس مقدمے کی سماعت میں شرکت کے لیے سلطان پور کی عدالت جانا ہے۔
یہ مقدمہ سال 2018 کا ہے اور اس کا تعلق کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران راہول گاندھی کی جانب سے اس وقت کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر امیت شاہ کے خلاف بنگلورو میں دیے گئے مبینہ توہین آمیز بیان سے ہے۔ بی جے پی رہنما وجے مشرا نے 4 اگست 2018 کو راہول گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور فیصلے سے قبل اتر پردیش کانگریس کی صدر ارادھنا مشرا نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو عدالت پر پورا بھروسہ ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ اسے انصاف ملے گا۔ ارادھنا مشرا نے کہا کہ راہول گاندھی آج سلطان پور آئیں گے اور کانگریس کارکنان ان کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اس معاملے میں عدالتی کارروائی کو اہمیت دے رہی ہے اور اسے قانونی عمل سے انصاف ملنے کی امید ہے۔ راہل گاندھی کی عدالت میں پیشی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وہ قومی سیاست میں قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے سرگرم ہیں۔ اس لیے اس مقدمے کی سماعت پر سیاسی حلقوں کی بھی توجہ مرکوز ہے۔
ارادھنا مشرا نے اس دوران کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے بہار میں دیے گئے بیان پر بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ تاہم، دستیاب معلومات میں ان کے ردعمل کی مکمل تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اب سب کی نظریں سلطان پور کی عدالت میں ہونے والی سماعت اور اس کے بعد سامنے آنے والی پیش رفت پر ہیں۔ مقدمے میں آئندہ قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے سے ہی اس معاملے کی اگلی صورتِ حال واضح ہوگی۔ کانگریس کی جانب سے عدالت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کا فیصلہ قانونی عمل کے مطابق ہوگا۔






