Thursday, September 24, 2026 | 10 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ایس آئی آر پر تنازع کے درمیان راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر حملہ، کہا انصاف ضرور ہوگا

ایس آئی آر پر تنازع کے درمیان راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر حملہ، کہا انصاف ضرور ہوگا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 24 Sept 2026

ایس آئی آر پر تنازع کے درمیان راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر حملہ، کہا انصاف ضرور ہوگا
الیکشن کمیشن کے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (SIR) کو لے کر جاری سیاسی بحث کے درمیان کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی ہے۔ جمعرات کو راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے دشمن بے نقاب ہو چکے ہیں اور انصاف ضرور ہوگا۔ راہل گاندھی کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر ایک پرانی پریس کانفرنس کی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات اٹھائے تھے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ شام 4 بجے ایک پریس کانفرنس کریں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب SIR کے طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کے اندرونی مشاورتی عمل کو لے کر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق، SIR کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے مبینہ طور پر کئی مواقع پر اعتراضات یا مختلف آراء کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس سمیت بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو راہل گاندھی نے ووٹوں کی مبینہ چوری کو عوام کے خلاف جرم اور آئین پر براہِ راست حملہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی، آر ایس ایس اور الیکشن کمیشن پر اس معاملے میں ذمہ داری عائد کی اور کہا تھا کہ انصاف کی جیت ہوگی۔ یہ بیانات ان کے اس سیاسی موقف کا حصہ ہیں جس میں وہ انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی اس معاملے کو عوامی سطح تک لے جانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ SIR، الیکشن کمیشن کے کام کاج اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کے لیے 29 ستمبر کو دہلی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
 
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اخبار میں شائع رپورٹ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے کے اندر غور و خوض کے دوران مختلف آراء سامنے آنا معمول کی بات ہے۔ کمیشن کے مطابق اندرونی مشاورت میں اختلافِ رائے اور مختلف تبصرے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ فیصلے قانونی طریقہ کار کے مطابق کیے گئے ہیں۔ اس طرح ایک طرف اپوزیشن SIR کے عمل اور کمیشن کے اندرونی مشاورتی عمل پر سوالات اٹھا رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے فیصلوں کو قانونی طریقہ کار کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپنے عمل کی وضاحت کی ہے۔