کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے خلاف سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر نے غیر قانونی اقدامات کیے اور جان بوجھ کر ’غیرمنصفانہ‘ انتخابات ہونے دیے تو ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور غداری کے الزام میں کاروائی ہونی چاہیے۔
پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ ردوبدل اور تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام خارج کرنا جمہوریت، آئین اور ملک کے خلاف مجرمانہ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمشنر کو ان مبینہ بے ضابطگیوں کا علم تھا اوران کے ساتھی کمشنروں نے بھی انہیں اس بارے میں آگاہ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں جاری رہنے دیا گیا، تو ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کاروائی ہونی چاہیے۔
پرینکا نے چیف الیکشن کمشنر کو حاصل قانونی تحفظ پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی عہدے دار نے غیر قانونی کام کیا ہے تو اسے قانونی کاروائی سے تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنرز' Sukhbir Singh Sandhu ' اور 'Vivek Joshi' نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران انتخابی فہرستوں اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹرز کے نام شامل کرنے اور خارج کرنے، فارم 6 میں تبدیلیوں اور انتخابی فہرست کے ڈیٹا سے متعلق معاملات شامل تھے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے اعتراضات یا تجاویز دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کمیشن کے اندر اختلافات ہیں یا اس کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف ارکان کی جانب سے نوٹس، مشاہدات اور تجاویز دینا کسی بھی کثیر رکنی ادارے میں معمول کے عمل کا حصہ ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس کے تمام اہم فیصلے، بشمول SIR سے متعلق فیصلے، مکمل کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے ہیں۔






