مدھیہ پردیش میں دیگر پسماندہ طبقات یعنی او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو خط لکھ کر او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے اور روکے گئے 13 فیصد عہدوں کے لیے منتخب امیدواروں کو تقرری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ بڑی تعداد میں نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے اپنی تقرری کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ’87:13‘ فارمولے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 13 فیصد عہدوں کو فی الحال روکا گیا ہے، جبکہ ان عہدوں کے لیے منتخب امیدوار 2022 سے تقرری کا انتظار کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو غیر معینہ مدت تک انتظار کرانے کے بجائے حکومت کو اس معاملے پر فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے اندور میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق پروگرام کے دوران نوجوانوں نے OBC ریزرویشن اور روکے گئے عہدوں پر تقرری سے متعلق اپنی پریشانیوں کو نمایاں طور پر اٹھایا تھا۔ اسی کے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔
راہل گاندھی کے خط کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر وشواس سارنگ نے کانگریس پر جوابی حملہ کیا۔ سارنگ نے الزام لگایا کہ OBC ریزرویشن کے 27 فیصد معاملے کو التوا میں رکھنے کی ذمہ داری سابق کمل ناتھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی حکومت عدالت میں اس معاملے کی مؤثر پیروی نہیں کر سکی۔ سارنگ کے مطابق موجودہ بی جے پی حکومت OBC کے لیے 27 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی پر معاملے کی مکمل معلومات نہ رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ سارنگ نے راہل گاندھی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے خط ہندی میں لکھا ہے تو انہیں اسے مکمل طور پر پڑھ کر سنانا چاہیے اور سوشل میڈیا پر بھی جاری کرنا چاہیے۔
دوسری جانب AICC کے سیکریٹری کنال چودھری نے راہل گاندھی کے خط کو نوجوانوں کے مسائل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ OBC کوٹے کے تحت مخصوص 13 فیصد عہدوں پر تقرری نہ ہونے سے امیدوار طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔چودھری کے مطابق کئی نوجوان اپنی زندگی کے اہم سال انتظار میں گزار رہے ہیں، جبکہ بعض امیدوار مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں واضح فیصلہ لینا چاہیے تاکہ امیدواروں کی تقرری سے متعلق صورتحال مزید طویل نہ ہو۔ یوں مدھیہ پردیش میں OBC کے 27 فیصد ریزرویشن اور روکے گئے 13 فیصد عہدوں کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بیان بازی اور نوجوانوں کی تقرری کے مطالبات کے مرکز میں آ گیا ہے۔






