Thursday, September 24, 2026 | 10 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • چیف الیکشن کمشنر سے 48 گھنٹوں میں دیں استعفے: سی جےپی

چیف الیکشن کمشنر سے 48 گھنٹوں میں دیں استعفے: سی جےپی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 24 Sept 2026

 چیف الیکشن کمشنر سے 48 گھنٹوں میں دیں استعفے: سی جےپی
الیکشن کمیشن کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) عمل سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ اسی تناظر میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے 48 گھنٹوں کے اندر استعفے دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ بصورتِ دیگر ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ سی جے پی کے کارکن ابھیجیت دیپکے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئندہ تمام انتخابات روکنے اور SIR کے عمل کو فوری طور پر معطل کرنا چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی درخواست کی کہ SIR سے متعلق تمام سرکاری فائلیں اپنی تحویل میں لے لی جائیں تاکہ ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ 
 
ابھیجیت دیپکے نے چیف الیکشن کمشنر پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوری نظام میں اپوزیشن کمزور یا ختم ہو جائے تو جمہوریت کی بنیادیں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابی اداروں کے فیصلوں نے بعض جماعتوں کو نقصان پہنچایا۔ ابھیجیت دیپکے نے مزید دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار کے دور میں مختلف ریاستوں میں بی جے پی کے ووٹ شیئر میں اضافہ ہوا، جس کی بنیاد پر انہوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور الیکشن کمیشن کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔
 
 
 
پریس کانفرنس میں موجود سی جے پی کے رکن سوربھ داس نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان انتخابی نظام میں شفافیت اور اصلاحات چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم اسکولوں، نوجوانوں اور شہریوں کے درمیان بیداری مہم چلا رہی ہے تاکہ لوگوں کو ووٹر لسٹ اور انتخابی حقوق سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض شہریوں کو فارم-6 کے استعمال اور ووٹر لسٹ کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے عوام میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ان کے ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ SIR کا عمل قانونی طریقہ کار کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے اور اندرونی مشاورت کے دوران مختلف آراء سامنے آنا ایک معمول کا ادارہ جاتی عمل ہے۔
 
 
 ابھیجیت دیپکے کا بڑا دعویٰ
 
 ابھیجیت دیپکے کے مطابق، گیانیش کمار کے الیکشن کمشنر بننے کے بعد مہاراشٹر اور اتر پردیش میں 2 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام خارج کیے گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مغربی بنگال میں تقریباً 90 لاکھ، دہلی میں 47 لاکھ، کیرالہ میں 24 لاکھ اور تمل ناڈو میں 97 لاکھ ووٹرز متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کرناٹک میں تقریباً ایک کروڑ اور تلنگانہ میں 73 لاکھ ووٹرز کے نام خارج کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا۔ دیپکے نے ان اعداد و شمار کو جوڑتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام خارج کیے جا چکے ہیں یا خارج کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق تقریباً 2 فیصد تھا، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کا فہرست سے باہر ہونا انتخابی نتائج پر اثر پڑا تھا۔
 
اپوزیشن رہنماؤں کے حلقوں کا حوالہ
 
ابھیجیت دیپکے نے اپنے دعووں کی وضاحت کرتے ہوئے کئی اپوزیشن رہنماؤں کے حلقوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے حلقے سے مبینہ طور پر 50 ہزار ووٹ خارج کیے گئے اور وہ تقریباً 15 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہاریں۔ اسی طرح انہوں نے ایم کے اسٹالن اور اروند کیجریوال کے انتخابی حلقوں میں بھی ووٹرز کے نام خارج کیے جانے اور انتخابی نتائج کے درمیان تعلق کا دعویٰ کیا۔
 
گیانیش کمار پر بھی تنقید
 
دیپکے نے 2024 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی 400 سے زیادہ نشستیں جیتنے کے ہدف کے باوجود 240 نشستوں پر رہی اور اسے مکمل اکثریت نہیں ملی۔ ان کے مطابق اس کے بعد علاقائی سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی طاقت میں تبدیلی دیکھی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حالیہ انتخابی کامیابیوں میں گیانیش کمار کا کردار رہا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا۔