Friday, October 30, 2026 | 18 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی ووٹر لسٹ پر تنازع، رام گوپال یادو نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

یوپی ووٹر لسٹ پر تنازع، رام گوپال یادو نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Oct 2026

یوپی ووٹر لسٹ پر تنازع، رام گوپال یادو نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا
بی جے پی کارکنوں کو افسران کے لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ دینے کا دعویٰ
ہر اسمبلی حلقے میں 10 ہزار ووٹ حذف کرنے کا ہدف مقرر ہونے کا الزام
 
اتر پردیش میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر سیاسی تنازع ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن اور پارٹی صدر اکھلیش یادو کے چچا رام گوپال یادو نے ریاست میں افسران کی تعیناتیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایسے افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے جو اپنے لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ بی جے پی سے وابستہ افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان معلومات کے ذریعے بی جے پی کارکن ووٹر رجسٹریشن سینٹر (VRC) کے عملے کے ساتھ مل کر سماج وادی پارٹی کے حامیوں کے ووٹ حذف کروا رہے ہیں۔ رام گوپال یادو نے الیکشن کمیشن سے معاملے کا نوٹس لینے اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
ہر اسمبلی حلقے میں 10 ہزار ووٹ حذف کرنے کا ہدف؟
 
رام گوپال یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں الزام لگایا کہ اتر پردیش میں ایس ڈی ایم کے عہدوں پر ایسے افسران تعینات کیے جا رہے ہیں جو اپنی لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ بی جے پی کے مقرر کردہ افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی سے وابستہ یہ افراد وی آر سی کے عملے کے ساتھ بیٹھ کر ایس پی کے حامی ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرتے ہیں، جبکہ بی جے پی کے حق میں ووٹ شامل کیے جاتے ہیں۔
 
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چونکہ او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) بھی اسی لاگ اِن آئی ڈی سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے ان افراد کو ووٹ حذف کرنے کی منظوری حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ رام گوپال یادو کے مطابق مبینہ طور پر ہر اسمبلی حلقے میں ایس پی کے حامیوں کے تقریباً 10 ہزار ووٹ حذف کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
 
الیکشن کمیشن سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
 
رام گوپال یادو نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرائے اور اگر کوئی افسر یا دوسرا شخص قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ قابلِ ذکر ہے کہ سماج وادی پارٹی پہلے بھی انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اپنے حامیوں کے ووٹ حذف کیے جانے کے الزامات اٹھاتی رہی ہے۔ پارٹی الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتی رہی ہے، جبکہ اکھلیش یادو اس معاملے پر کئی بار سخت ردعمل دے چکے ہیں۔
 
یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسر کا جواب
 
دوسری جانب رام گوپال یادو کے الزامات پر اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے بھی جواب دیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ریاست کے کسی بھی اسمبلی حلقے میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کے حوالے سے کوئی شکایت یا شبہ ہے تو اسے الیکشن کمیشن کے علم میں لایا جائے۔ شکایت ملنے پر فوری تحقیقات کی جائیں گی اور الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال رام گوپال یادو کے الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم الیکشن افسر کے جواب کے بعد اس معاملے میں تحقیقات اور ممکنہ کارروائی پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔