Wednesday, October 28, 2026 | 16 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی ریکارڈ ووٹنگ، عرب جماعتوں کو 18 نشستیں ملنے کا امکان

اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی ریکارڈ ووٹنگ، عرب جماعتوں کو 18 نشستیں ملنے کا امکان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Oct 2026

اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی ریکارڈ ووٹنگ، عرب جماعتوں کو 18 نشستیں ملنے کا امکان
ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ
 حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار اہم ہونے کی توقع
 
اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی شرح میں کئی دہائیوں کے بعد نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولز کے مطابق، عرب قیادت والی جماعتیں اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ ابتدائی اندازوں نے حکومت سازی میں عرب جماعتوں کے کردار کو ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا چینل 12 کے مطابق، فلسطینی شہریوں میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا، جو ایک تاریخی سطح ہے۔ دوسری جانب، سینٹرل الیکشن کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، پورے اسرائیل میں ووٹنگ کی مجموعی شرح 77.7 فیصد رہی، جو 1999 کے بعد بلند ترین سطح بتائی گئی ہے۔
 
 
ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق، سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی جماعت ’یشار‘ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ کی قیادت والے اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ عرب قیادت والی نمایاں جماعتوں میں ’جوائنٹ لسٹ‘ اور منصور عباس کی جماعت ’رعام‘ شامل ہیں، جسے ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
 
 
رعام کے رہنما منصور عباس نے امید ظاہر کی کہ حتمی نتائج کے بعد نیتن یاہو مخالف اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔ ان کی جماعت بھی اس اتحاد کا حصہ بن سکتی ہے۔ اسرائیلی چینل 12 سے بات کرتے ہوئے منصور عباس نے کہا، ’’فی الحال ہمارے پاس جو تعداد ہے، اس کے ساتھ کوئی حکومت نہیں بن سکتی۔‘‘منصور عباس کی جماعت کے پاس اس وقت کنیسٹ میں پانچ نشستیں ہیں۔ ان کی جماعت 2021 سے 2022 تک اسرائیل میں اقتدار میں رہنے والے مخلوط اتحاد کا حصہ بھی رہ چکی ہے۔ عباس کے مطابق، انتخابات سے پہلے اور بعد میں دونوں بڑے سیاسی اتحادوں نے ان کی جماعت سے رابطہ کیا تھا۔
 
 
اسرائیل کے سابق سفیر الون پنکاس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے اتحاد کے لیے حکومت بنانا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران اس نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پنکاس کے مطابق، عرب جماعتوں کو حکومت سے باہر رکھنے کی سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب شہریوں کو صرف اس وقت اہمیت نہیں دی جا سکتی جب ان کے ووٹوں کی ضرورت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب قیادت والی جماعتیں حکومت سازی کے لیے ایسے مطالبات سامنے رکھ سکتی ہیں جنہیں یہودی قیادت والا مخلوط اتحاد قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے۔
 
 
انتخابات کے روز نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کیا۔ اس دوران عرب شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے کا حوالہ بھی دیا گیا، جسے عرب سیاست دانوں نے نسل پرستانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
 
 یروشلم کی سڑکوں پر لیکوڈ پارٹی کے جھنڈے لگی گاڑیاں گشت کرتی رہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے حامیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں، کیونکہ عرب ووٹ ڈال رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر عرب آبادی والے علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر لمبی قطاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے حامی ووٹ ڈالنے نہیں نکلے تو منصور عباس اور احمد طیبی جیسے فلسطینی ارکان کا سیاسی اثر بڑھ سکتا ہے۔