ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہندوستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات سمیت روس اور ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق قانون پر بھی بات چیت ہوئی۔ ایس جے شنکر اتوار کے روز نیویارک پہنچے ہیں، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ملاقات کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات اچھی رہی۔ جے شنکر کے مطابق ملاقات کے دوران روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے والے امریکی قانون سے متعلق ہندوستان کے مفادات اور خدشات کو ایک بار پھر واضح کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خلیج کی صورتحال اور یوکرین کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے روس اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے نیا قانون منظور کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’لنڈسے او گراہم روس اور ایران پابندیوں ایکٹ 2026‘ پر دستخط کیے تھے۔اس قانون کے تحت امریکی صدر کو ان ممالک سے تجارت کرنے والے ممالک یا اداروں پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض صورتوں میں یہ محصولات 100 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان روس کے ساتھ توانائی اور دیگر شعبوں میں اہم تجارتی تعلقات رکھتا ہے، اس لیے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات نئی دہلی کے لیے اہم معاملہ ہیں۔ جے شنکر پہلے بھی مختلف مواقع پر ہندوستان کے توانائی کے مفادات اور قومی ترجیحات کو واضح کر چکے ہیں۔
جے شنکر اور روبیو کے درمیان ملاقات میں خلیج کی صورتحال اور یوکرین میں جاری حالات بھی زیرِ بحث آئے۔ دونوں خطوں میں جاری کشیدگی کے عالمی تجارت، توانائی اور سفارتی تعلقات پر اثرات کے پیش نظر یہ معاملات اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ہندوستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں کئی اہم عالمی مسائل پر اپنا موقف پیش کر رہا ہے۔ ایسے میں جے شنکر کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






