مہاراشٹر کی سیاست میں شرد پوار کے بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں پر اب خود شرد پوار نے وضاحت کر دی ہے۔ ممبئی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ان کی پارٹی کسی دوسرے اتحاد میں شامل نہیں ہو رہی۔ کئی ماہ سے یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ شرد پوار بی جے پی کے ساتھ سیاسی اتحاد کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی ملاقات کے بعد ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی تھی۔ اس کے علاوہ این سی پی کے دونوں دھڑوں کے دوبارہ ایک ساتھ آنے کی باتیں بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث تھیں۔
تاہم شرد پوار نے ان تمام امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔ ہم کسی اور کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ آنا چاہتا ہے تو اسے ہمارے ساتھ شامل ہونا ہوگا۔ ان کے اس بیان سے پارٹی کی موجودہ سیاسی سمت کے حوالے سے ان کا مؤقف واضح ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق این سی پی مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی اور قومی سطح پر انڈیا اتحاد کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔
شرد پوار نے اجلاس میں ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی میٹنگ میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک مختلف مسائل پر غور کیا گیا اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے مطالبات پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے ایک میمورنڈم تیار کیا ہے، جس میں حکومت سے کسانوں اور متاثرہ علاقوں کے لیے مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ حکومت سے مطالبات جلد پورے کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ اگر مطالبات پر کارروائی نہیں ہوئی تو پارٹی سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے دوران کسانوں کو فوری مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو مل کر ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن سے کسانوں کو مشکلات سے نکالا جا سکے۔ شرد پوار نے اپنے سابقہ دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں مختلف علاقوں میں کسانوں کے مسائل کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے موسمبی اور کیلے جیسی فصلوں کے لیے مالی امداد، قرض میں پھنسے کسانوں کی مشکلات اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے دائرہ کار جیسے مسائل بھی اٹھائے۔
شرد پوار نے مہاراشٹر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بارامتی میں AI کی تعلیم کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کیا گیا ہے اور حال ہی میں انہوں نے وہاں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ AI مستقبل میں کئی شعبوں کو متاثر کرے گی، اس لیے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پوار کے مطابق مستقبل کے انتخابی عمل میں بھی AI سے متعلق مختلف ٹولز کا استعمال ممکن ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے AI کے بارے میں مضامین پڑھنے اور اس ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ پیدا کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کو سمجھنا سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔






