Monday, September 21, 2026 | 07 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی ایس آئی آر: الیکشن کمشنر، وزیر خارجہ جے شنکر، اڈوانی اور کیجریوال سمیت کئی اہم ناموں کو نوٹس

دہلی ایس آئی آر: الیکشن کمشنر، وزیر خارجہ جے شنکر، اڈوانی اور کیجریوال سمیت کئی اہم ناموں کو نوٹس

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 20 Sept 2026

دہلی ایس آئی آر: الیکشن کمشنر، وزیر خارجہ جے شنکر، اڈوانی اور کیجریوال سمیت کئی اہم ناموں کو نوٹس
دہلی میں جاری انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision-SIR) کے دوران انتخابی حکام نے کئی معروف شخصیات کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان میں الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سمیت دیگر اہم نام شامل ہیں۔
 
نوٹس حاصل کرنےوالےدیگر وائی آئی پی میں  دہلی سی ایم ،  رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج، دہلی بی جے پی کے سابق صدر وریندر کمار سچدیوا،  اور سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سمیت،وزیر اعظم کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر اجے کمار سود، ہیلتھ سکریٹری پونیا سلیلا، فشریز سکریٹری ابھیلکش لکھی، اور ان کی اہلیہ سابق سروس مینس ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سکریٹری سکریٹی لکھی، فرٹیلائزر سکریٹری کمار اور لینڈ سورس کے سکریٹری نریندر کمار راجہ اور سابق آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ڈائریکٹر پروین سود اور ان کے خاندان ،کے افراد شامل ہیں۔
 
 دی وائر نے لکھا ہے، نوٹس  ایک سابق نائب صدر، ہندوستان کے دو سابق چیف جسٹسوں کی بیگمات، سپریم کورٹ کے کئی سینئر وکلاء، ایک تاریخ دان اور ایک ماہر اقتصادیات جن کا دو سال قبل انتقال ہو گیا تھا، دہلی کی رائے دہندگان کی تازہ فہرست میں نمایاں انتخاب کرنے والوں میں شامل ہیں جنہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI's) کے تحت نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

 نوٹس کا مطلب نام ووٹرلسٹ سے حذف نہیں کیا گیا

رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس انتخابی ریکارڈ میں نام یا دیگر تفصیلات کے فرق، پرانے ریکارڈ سے موجودہ اندراجات کے میپ نہ ہونے اور بعض دستاویزات میں پائی جانے والی مبینہ تضادات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔تاہم کسی ووٹر کو SIR نوٹس موصول ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیا گیا ہے یا اسے ووٹ دینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ نوٹس کا بنیادی مقصد ریکارڈ میں موجود فرق یا ابہام کی وضاحت حاصل کرنا اور متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر ووٹر کی تفصیلات کی تصدیق کرنا ہے۔

 الیکشن کمشنرایس ایس سندھو کو کیوں ملا نوٹس؟

الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو کا نام بھی ان ووٹرز کی فہرست میں شامل ہے جن کے ریکارڈ کی تصدیق کی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان کے معاملے میں انتخابی ریکارڈ میں درج نام اور دیگر سرکاری دستاویزات میں موجود تفصیلات کے درمیان ہجے کے فرق کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر تصدیقی عمل کے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔انتخابی حکام ایسے تمام ریکارڈ کی جانچ کررہے ہیں جن میں نام، تفصیلات یا سابقہ انتخابی ڈیٹا سے میپنگ کے حوالے سے کسی قسم کا فرق سامنے آیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا نام بھی شامل

مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی ان معروف ووٹرز میں شامل ہیں جن کے انتخابی ریکارڈ کو تصدیق کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان کے معاملے میں انتخابی فہرست میں درج معلومات کو دستیاب دستاویزات کے ساتھ ملایا جارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ کے انتخابی ریکارڈ میں بھی اسی نوعیت کی تصدیق کی ضرورت سامنے آئی ہے۔اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ SIR کی کارروائی صرف عام ووٹرز تک محدود نہیں ہے۔ انتخابی حکام مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کے ریکارڈ کی جانچ کررہے ہیں۔

ایل کے اڈوانی، کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی بھی فہرست میں

سابق نائب وزیر اعظم اور سینئر بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی کا نام بھی ان افراد میں شامل بتایا گیا ہے جن کے انتخابی ریکارڈ کی تصدیق کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے معاملے میں پرانے SIR ریکارڈ سے ڈیٹا میپ نہ ہونے اور انتخابی دستاویزات میں بعض تفصیلات کے درمیان مبینہ تضاد کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان کی بیٹی پرتیبھا اڈوانی کا نام بھی اسی نوعیت کی تصدیق کے لیے شامل بتایا گیا ہے۔
سابق مرکزی وزیر اور سینئر وکیل کپل سبل کا موجودہ انتخابی ریکارڈ مبینہ طور پر سابقہ SIR ریکارڈ سے براہ راست میپ نہیں ہوسکا، جس کے بعد ان کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔
سابق کانگریس رہنما اور سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کا نام بھی تصدیق کی فہرست میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے انتخابی ڈیٹا میں پرانے ریکارڈ کے ساتھ فرق یا کسی منطقی تضاد کی نشاندہی ہوئی ہے۔

خارجہ سکریٹری وکرم مسری کا ریکارڈ بھی زیرِ تصدیق

خارجہ سکریٹری وکرم مصری بھی ان سینئر عہدیداروں میں شامل ہیں جن کے انتخابی ریکارڈ کی تصدیق کی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان کی موجودہ انتخابی تفصیلات سابقہ SIR ڈیٹا بیس سے میچ نہیں ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ دستاویزات کے ذریعے تصدیق کا عمل شروع کیا گیا۔

اروند کیجریوال اور خاندان کے افراد کو بھی نوٹس

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کو بھی مبینہ طور پر SIR نوٹس موصول ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے انتخابی ریکارڈ میں سابقہ SIR ڈیٹا کے ساتھ میپنگ نہ ہونے یا کسی منطقی تضاد کی نشاندہی کے بعد نوٹس جاری کیا گیا۔کیجریوال کے خاندان کے بعض افراد کے انتخابی ریکارڈ میں بھی اسی نوعیت کے فرق سامنے آنے کے بعد نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔

تقریباً 33 لاکھ ووٹرز سے وضاحت طلب؟

دہلی میں جاری SIR کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 33 لاکھ ووٹرز سے ان کے انتخابی ریکارڈ میں موجود ’’منطقی تضادات‘‘ یا سابقہ ریکارڈ سے میپنگ نہ ہونے کے معاملے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔اس معاملے میں سپریم کورٹ میں بھی درخواست زیرِ سماعت ہے۔ عدالت 22 ستمبر کو اس درخواست پر سماعت کرنے والی ہے جس میں ایسے ووٹرز کے نام اور انہیں نوٹس جاری کرنے کی وجوہات کے بارے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

SIR نوٹس ملنے کا کیا مطلب ہے؟

SIR نوٹس سے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب خود بخود ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونا نہیں ہے۔اگر کسی ووٹر کے انتخابی ریکارڈ میں نام کے ہجے مختلف ہوں، موجودہ اندراج سابقہ ریکارڈ سے میپ نہ ہو، دستاویزات میں تضاد ہو یا کوئی دوسری تفصیل واضح نہ ہو تو انتخابی حکام ووٹر سے وضاحت یا متعلقہ دستاویزات طلب کرسکتے ہیں۔ووٹروں کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی تفصیلات کی تصدیق کے لیے جواب دینے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

تقریباً 47.6 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج

دہلی SIR کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 31 اگست کو جاری ڈرافٹ انتخابی فہرست میں تقریباً 47.6 لاکھ نام شامل نہیں کیے گئے۔ دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے 30 ستمبر تک کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔اس صورتحال میں SIR نوٹس پانے والے ووٹرز کے لیے یہ واضح کرنا اہم ہے کہ ان کے ریکارڈ میں موجود تضاد کیا ہے اور اسے دور کرنے کے لیے انہیں کون سی دستاویزات یا معلومات فراہم کرنی ہیں۔

SIR پر قانونی اور سیاسی توجہ

SIR کا مقصد موجودہ انتخابی ریکارڈ کو پرانے ڈیٹا اور دستیاب دستاویزات کے ساتھ ملا کر انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ تاہم ’’منطقی تضاد‘‘ یا ’’ان میپڈ‘‘ ریکارڈ کی بنیاد پر ووٹرز کی شناخت اور انہیں نوٹس جاری کرنے کے طریقہ کار پر قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ایسے ووٹرز کے نام، انہیں نوٹس بھیجے جانے کی وجوہات اور تضادات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے گئے معیار کو مزید واضح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔