چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق مبینہ یکطرفہ فیصلوں کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی جلد سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے اور کیس کو اگلے ہفتے سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ معاملہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سمیت الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور اس کے اندرونی کام کاج سے متعلق سوالات سے جڑا ہے۔
سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے دلیل دی کہ کثیر رکنی الیکشن کمیشن میں فیصلے قانون کے مطابق اکثریتی رائے سے کیے جانے چاہئیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر SIR جیسے اہم معاملات میں کمیشن کا اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ موجود نہیں تھا تو اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا SIR سے متعلق پورے عمل کے بارے میں الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر کوئی اجتماعی فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔ ان کے مطابق، اگر کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلاف موجود تھا تو معاملہ مزید جانچ کا متقاضی ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے SIR سے متعلق بعض فیصلوں پر مختلف مواقع پر تحریری اعتراضات درج کرائے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اعتراضات میں فارم 6 میں تبدیلیوں اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کہا ہے کہ SIR سے متعلق فیصلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں کی رضامندی سے لیے گئے تھے۔
25 ستمبر کو وکیل شیلیندرمانی ترپاٹھی نے بھی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ گیانیش کمار کی جانب سے دیگر الیکشن کمشنروں کی منظوری یا اکثریتی رائے کے بغیر کیے گئے فیصلوں، ہدایات اور سافٹ ویئر میں تبدیلیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں SIR سے متعلق بعض فیصلوں کی تحقیقات اور اصل فارم 6 بحال کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ اب سپریم کورٹ میں ہونے والی آئندہ سماعت میں یہ دیکھا جائے گا کہ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر عدالت کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ فی الحال عدالت نے ان الزامات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔






