چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواستوں پرسپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ معاملہ الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار، اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) اور مبینہ طور پر یکطرفہ طور پر لیے گئے فیصلوں سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل وکاس سنگھ نے الیکشن کمیشن کے آئینی اور قانونی ڈھانچے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنرز کو ان کے دورِ ملازمت میں کیے گئے اقدامات کے سلسلے میں قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس تحفظ کی نوعیت پر عدالت کو غور کرنا چاہیے۔
وکاس سنگھ نے عدالت سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے اجتماعی طور پر کیے جانے چاہئیں اور اگر کسی فیصلے میں دیگر الیکشن کمشنرز کی رضامندی شامل نہ ہو تو اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ ضروری ہے۔ اس درخواست میں گیانیش کمار کے کام کرنے کے طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کی اجتماعی فیصلہ سازی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ SIR سے متعلق بعض فیصلے اور ہدایات دیگر الیکشن کمشنرز کی منظوری یا رضامندی کے بغیر جاری کیے گئے۔ اس معاملے میں الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے مبینہ طور پر متعدد اعتراضات اٹھائے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا مؤقف رہا ہے کہ اس کے فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے ہیں۔
درخواستوں میں SIR کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ بعض فیصلوں کی جانچ، خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) سے تحقیقات اور الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر و ڈیٹا سسٹمز کے فرانزک آڈٹ جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بھی اس معاملے پر سخت سیاسی ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض سابق اور موجودہ ججوں کے ریمارکس سے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ان کے یہ تبصرے سیاسی موقف کا حصہ ہیں اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر حتمی عدالتی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سپریم کورٹ کے سامنے ہے جب SIR اور ووٹر لسٹ سے متعلق تنازع پر سیاسی جماعتوں اور مختلف گروہوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ عدالت اب ان درخواستوں میں اٹھائے گئے قانونی سوالات، الیکشن کمیشن کی اجتماعی فیصلہ سازی اور CEC کے اختیارات سے متعلق دلائل کا جائزہ لے رہی ہے۔







