چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوری طور پر کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ جس خبر یا رپورٹ کی بنیاد پر درخواست دائر کی گئی ہے، وہ مکمل طور پر درست، جزوی طور پر درست یا غلط بھی ہو سکتی ہے، اس لیے صرف اس کی بنیاد پر کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ درخواست پر نوٹس جاری کر رہی ہے اور معاملے کی مزید سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے اس مرحلے پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کوئی فوری کارروائی کرنے کے بجائے متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل وکاس سنگھ نے عدالت سے عبوری حکم جاری کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے کم از کم ایسا حکم دیا جانا چاہیے جس کے تحت الیکشن کمیشن میں زیر سماعت مدت کے دوران فیصلے متفقہ طور پر کیے جائیں۔ وکاس سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کے درمیان فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوال اٹھ رہے ہیں تو عدالت کو عبوری طور پر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کمیشن کے فیصلے اجتماعی طور پر کیے جائیں۔
وکاس سنگھ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو معطل کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ اگر CEC کو معطل کر دیا جاتا ہے تو الیکشن کمیشن اپنا کام کیسے انجام دے گا؟ اس پر وکاس سنگھ نے جواب دیا کہ باقی دو الیکشن کمشنرز کمیشن کا کام سنبھال سکتے ہیں۔ ان کی جانب سے عدالت سے یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں کم از کم فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں عبوری ہدایت دی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے تاہم اس مرحلے پر معطلی یا کسی دوسرے عبوری انتظام کا حکم جاری نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے الزامات اور ان کی بنیاد بننے والی خبروں کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار، چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق مبینہ یکطرفہ فیصلوں کے الزامات سے جڑا ہوا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور اہم فیصلوں میں تمام الیکشن کمشنرز کی اجتماعی شرکت ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اب متعلقہ فریقوں کے جوابات اور آئندہ سماعت میں پیش کیے جانے والے دلائل اہم ہوں گے۔ عدالت نے فی الحال صرف درخواست پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی معطلی یا کمیشن کے فیصلوں کے طریقہ کار میں کسی عبوری تبدیلی کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔







