Tuesday, September 29, 2026 | 15 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی این سی آر میں خواتین کی حفاظت پر سپریم کورٹ کی تشویش

دہلی این سی آر میں خواتین کی حفاظت پر سپریم کورٹ کی تشویش

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 28 Sept 2026

دہلی این سی آر میں خواتین کی حفاظت پر سپریم کورٹ کی تشویش
سپریم کورٹ نے دہلی اور این سی آر میں حالیہ جنسی تشدد کے متعدد واقعات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات میں 2012 کے نربھیا کیس سے تکلیف دہ مماثلت نظر آتی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر ازخود مفادِ عامہ کی درخواست درج کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
 
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وِنود چندرن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ دہلی این سی آر میں پیش آنے والے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامیہ لوگوں کی بنیادی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ صرف ہمدردی یا یکجہتی کا اظہار کافی نہیں بلکہ ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔
 
جسٹس پاردی والا نے کہا کہ پارکوں، سڑکوں، بسوں، میٹرو اسٹیشنز اور سب ویز جیسی عوامی جگہوں کو مناسب روشنی، نگرانی اور ضروری انتظامات کی کمی کے باعث خطرناک مقامات نہیں بننے دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق عوامی مقامات پر لوگوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی حفاظت یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
 
عدالت کے سامنے دہلی کے کالکاجی علاقے کے آستھا کنج پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا معاملہ بھی تھا۔ پولیس کے مطابق تین افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے لڑکی اور اس کے دوست کو روکا اور بعد میں لڑکی کو پارک کے ایک سنسان حصے میں لے گئے۔ تینوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
 
اس واقعے کے بعد آستھا کنج پارک کی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ پارک کے داخلی اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے، کچھ گیٹ بغیر نگرانی کے تھے، روشنی مناسب نہیں تھی اور پارک کی بیرونی دیوار کے کچھ حصے بھی خراب تھے۔
 
سپریم کورٹ نے دہلی میں ایک سلیپر بس میں کم عمر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ بس گریٹر نوئیڈا سے دہلی کے کشمیری گیٹ تک تقریباً 47 کلومیٹر کا سفر کر گئی، لیکن راستے میں اسے کسی پولیس چیک پوسٹ پر نہیں روکا گیا۔ اس معاملے نے مسافر بسوں میں حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔
 
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جس بس میں یہ واقعہ پیش آیا، اس کے خلاف 11 چالان تھے اور اس کا سی سی ٹی وی کیمرا بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ اس کے باوجود بس سڑک پر چل رہی تھی۔
 
اس واقعے کے بعد دہلی حکومت نے بسوں کی سکیورٹی سے متعلق نئے اقدامات بھی جاری کیے۔ ان میں جی پی ایس، ایمرجنسی پینک بٹن اور بسوں میں پردوں یا ایسے شیشوں پر پابندی شامل تھی جو اندر کا منظر چھپا دیں۔ بسوں کو غیر محفوظ یا غیر مجاز مقامات پر روکنے سے بھی منع کیا گیا۔
 
سپریم کورٹ نے ان واقعات کا موازنہ 2012 کے نربھیا کیس سے کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں میں قانون نافذ کرنے والے نظام میں عوامی تحفظ کے حوالے سے کتنی بہتری آئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مقامات پر خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات اور ذمہ داری طے کرنا ضروری ہے۔
 
2012 میں دہلی کی ایک چلتی بس میں 23 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔