Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا قانون، سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچا

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا قانون، سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا قانون، سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچا
چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور دیگر الیکشن کمشنرز (ECs) کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت نے  کہا کہ عدالت 23 ستمبر کے منقسم فیصلے کو واپس لینے کے لیے دائر درخواست کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ درخواست سینئر وکیل گوپال سنکرانارائنن نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے سامنے پیش کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر 23 ستمبر کو دو رکنی بینچ نے منقسم فیصلہ سنایا تھا۔ اب اس فیصلے کو واپس لینے کے لیے ایک عبوری درخواست یعنی Interlocutory Application (IA) دائر کی گئی ہے۔
 
دراصل سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 23 ستمبر کو اس سوال پر الگ الگ رائے دی تھی کہ آیا 2023 کے قانون کو آئینی بینچ کے سامنے بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔ جسٹس دتہ نے معاملے کو بڑے بینچ کے حوالے کرنے کی ضرورت سے اتفاق نہیں کیا، جبکہ جسٹس شرما نے پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ کے سامنے معاملہ رکھنے کی حمایت کی۔ دونوں ججوں کی رائے مختلف ہونے کے باوجود اس بات پر اتفاق تھا کہ معاملے کی فائل چیف جسٹس کے سامنے رکھی جائے، تاکہ وہ مناسب بینچ تشکیل دینے کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔ اس طرح کیس کا اگلا مرحلہ چیف جسٹس کے انتظامی اختیار کے تحت آ گیا۔
 
اس کے بعد سینئر وکیل گوپال سنکرانارائنن نے سپریم کورٹ میں درخواست کا ذکر کیا۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ 23 ستمبر کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے ایک عبوری درخواست دائر کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس درخواست میں جسٹس ستیش چندر شرما کی سماعت میں شمولیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ جسٹس شرما کے بیٹے کا الیکشن کمیشن سے متعلق قانونی معاملے میں وکیل کے طور پر پیش ہونا ایک ایسا معاملہ تھا جس پر سماعت کے دوران وضاحت یا دستبرداری کا سوال پیدا ہوتا تھا۔ درخواست میں اسی بنیاد پر 23 ستمبر کے حکم کو واپس لینے اور معاملے کی دوبارہ سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔
 
سینئر وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس معاملے میں کیوریٹو پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی قابلِ سماعت ہونے پر حتمی رائے دینے سے گریز کیا اور کہا کہ کیوریٹو پٹیشن کے لیے عام طور پر ریویو پٹیشن کا مرحلہ اہم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ درخواستوں اور قانونی نکات پر غور کیا جائے گا اور اس کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ 2023 کے قانون میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے سلیکشن کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ وزیراعظم کی جانب سے نامزد مرکزی کابینہ کے وزیر کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی انتظام کو چیلنج کرنے والی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔