الیکشن کمیشن کے کام کاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ اہم فیصلے اور تبدیلیاں دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی یا اکثریتی فیصلے کے بغیر کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ درخواست گزاروں میں راکیش کمار سنگھ اور ایڈووکیٹ شیلیندر منی ترپاٹھی شامل ہیں۔
راکیش کمار سنگھ کی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار کو حتمی فیصلے تک چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے بعض اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے اور الیکشن کمیشن کا کام آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق اجتماعی طور پر چلانے کی ہدایت دی جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 324 اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023 کی دفعہ 18 کے تحت الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارے کے طور پر فیصلے کرتا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلاف ہو تو اکثریتی رائے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں نے الزام لگایا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق بعض اقدامات اور الیکشن کمیشن کے آن لائن نظام میں کی گئی تبدیلیاں دیگر کمشنروں کی منظوری کے بغیر کی گئیں۔ شیلیندر منی ترپاٹھی کی درخواست میں ایسے فیصلوں، ہدایات اور سافٹ ویئر تبدیلیوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جن کے بارے میں درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ انہیں کمیشن کے اجتماعی فیصلے کے بغیر نافذ کیا گیا۔ درخواست میں مزید کارروائی اور تحقیقات کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمیشن کے دو دیگر ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے بعض فیصلوں پر مبینہ تحریری اعتراضات کا ذکر کیا گیا۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان اعتراضات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کمیشن کے اجتماعی اختیارات انفرادی طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، یہ الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ خود درخواست میں بھی کہا گیا ہے کہ اصل صورتحال کا تعین متعلقہ فائلوں، منظوریوں، میٹنگ ریکارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ میں اب بنیادی سوال یہی ہے کہ الیکشن کمیشن کے اجتماعی اختیارات کس طریقے سے استعمال کیے جانے چاہئیں اور کیا کسی اہم فیصلے کو دیگر ارکان کی رضامندی یا اکثریتی رائے کے بغیر نافذ کیا جا سکتا ہے۔






