اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 کی تیاریوں کے درمیان سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سابق وزیرسوامی پرساد موریہ نے اتوار کو رام پور پہنچ کر سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ موریہ نے اعظم خان کی اہلیہ، تزین فاطمہ اور ان کے بیٹے ادیب اعظم سے تقریباً 45 منٹ تک ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ وہ اعظم خان کے اہل خانہ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے رام پور آئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عبداللہ اعظم، ادیب اعظم اور تزین فاطمہ کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ موریہ نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد جیل میں موجود اعظم خان سے ملاقات کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ملاقات کے بعد ریاست کی سیاست میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں۔
موریہ نے مرکز کی مودی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ’گناہوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے‘ اور اب ان کے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے گا اور یوگی حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی۔ سوامی پرساد موریہ نے چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کا جس انداز میں دفاع کیا جا رہا ہے، اس سے ان کے مطابق کمیشن کی غیر جانب داری پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ موریہ نے الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر بی جے پی کے مفادات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی سے اپنی ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر موریہ نے کہا کہ بات چیت میں ملک اور اتر پردیش میں مبینہ ’آمریت‘ اور الیکشن کمیشن کے کردار سمیت مختلف سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے اس مشورے پر بھی ردعمل دیا جس میں لوگوں کو ای رکشہ چلانے کی بات کہی گئی تھی۔ موریہ نے کہا کہ دوسروں کو مشورہ دینے سے پہلے خود ای رکشہ چلا کر مثال قائم کرنی چاہیے۔موریہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کیا جائے گا اور یوگی حکومت کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔







