جموئی کیس کے مرکزی ملزم نندن یادو کے مبینہ انکاؤنٹر کے دوران اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے پٹنہ میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے جموئی واقعے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسی بھی سنگین جرم میں ملوث شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ ملزم کے بارے میں واضح طور پر معلومات فراہم کرے اور عوام کو بتایا جائے کہ اس کے ساتھ کیا کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بہار حکومت کو عوام کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ملزم کی ذات سے متعلق جیتن رام مانجھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ہر معاملے کو ذات پات کے زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموئی میں جس دن یہ واقعہ پیش آیا، اسی دن نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے ایک ذات پر مبنی پروگرام میں شرکت کرنے کا حوالہ بھی سامنے آیا تھا۔ تیجسوی نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں بار بار ذات پات کا ذکر کرنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے جیتن رام مانجھی پر بھی تنقید کی اور ان کے سیاسی کردار پر سوال اٹھائے۔
پریس کانفرنس کے دوران تیجسوی یادو نے خواتین کی سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جموئی واقعے کی ویڈیو انتہائی تشویشناک ہے اور ریاست میں خواتین کی حفاظت پر سنجیدہ سوال کھڑے کرتی ہے۔تیجسوی نے سمراٹ چودھری کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ماضی میں کسی سنگین واقعے کی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دینے کی بات کہی تھی تو اب انہیں اپنے اسی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ایم سمراٹ چودھری اپنے بیان کے مطابق استعفیٰ دیں۔ تیجسوی نے کہا کہ ریاست میں خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تیجسوی یادو نے ان رہنماؤں پر بھی تنقید کی جنہوں نے جموئی واقعے کو ایک ’انفرادی‘ یا ’اکا دکا‘ واقعہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا واقعہ کسی سیاسی رہنما کے اپنے گھر میں پیش آتا تو کیا وہ اسے تب بھی معمولی واقعہ قرار دیتے؟ انہوں نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خاندان نے جس صدمے کا سامنا کیا ہے، اسے معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ تیجسوی نے ایک بار پھر سمراٹ چودھری کو نشانہ بناتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کو خواتین کی حفاظت اور ایسے سنگین جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔







