حیدرآباد میں سرمایہ کاری کے فروغ کی سرکاری ایجنسی انویسٹ تلنگانہ کے سی ای او اجیت ریڈی آئی ڈی ایس نے کہا ہے کہ ریاست کی قیادت تلنگانہ کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے پہلی ترجیح بنانے کے واضح ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ حکومت نے ایرو اسپیس، خلا و دفاع، لائف سائنسز، آئی ٹی اور گلوبل کیپا بلیٹی سنٹرز کے ساتھ ساتھ اے آئی اور اے وی جی سی جیسے ابھرتے شعبوں میں اپنی قوت کو پہچان کر اگلے مرحلے کی حکمتِ عملی طے کرلی ہے، تاکہ گزشتہ سال قائم ہونے والی رفتار کو عملی کامیابیوں میں بدلا جا سکے۔
اجیت ریڈی کے مطابق وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور کابینہ نے گزشتہ سال تلنگانہ رائزنگ 2047 کے عنوان سے جو ویژن دستاویز جاری کی تھی، اس کا بنیادی ہدف 2047 تک ریاستی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر تک لے جانا ہے، جبکہ 2034 کے لیے 1 ٹریلین ڈالر کا عبوری سنگِ میل مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سال کے عالمی سربراہی اجلاس کا مقصد اسی وژن کو زمینی حقیقت میں ڈھالنا ہے، یعنی پالیسیوں اور نعروں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا۔ اس کے لیے ہر شعبے کی نوعیت اور اداروں کے حجم کے مطابق کسٹمائزڈ پیکجز تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کی مخصوص ضروریات پوری کی جا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کی ترجیحات کو سمجھنے پر خاص توجہ دی ہے، جن میں پالیسی فریم ورک کی شفافیت، عمل درآمد کی سنجیدگی، توانائی کی قیمتیں، قابلِ رسائی زمین اور فوری منظوریوں جیسے عوامل شامل ہیں۔ ان کے بقول گزشتہ سال کے سربراہی اجلاس میں تقریباً 69 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع حاصل ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر زمینی سطح پر پیش رفت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس بار توجہ اس بات پر ہے کہ مفاہمتی یادداشتیں مضبوط شراکت داریوں میں بدلیں، شراکت داریاں حقیقی منصوبوں میں منتقل ہوں، اور یہ منصوبے روزگار اور معیشتی نمو پیدا کریں۔
اجیت ریڈی نے کہا کہ اس پیمانے کے عالمی اجتماع کی میزبانی کے لیے تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت یہ ہے کہ سرمایہ کاری سربراہی اجلاس ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ ہونے والا کاروباری پلیٹ فارم ہو، جہاں ہندوستان میں مواقع تلاش کرنے والا ہر سرمایہ کار سب سے پہلے تلنگانہ کو دیکھے۔ انتظامات کے متعلق ہم نے عالمی معیار کو ہدف بنایا ہے اور دنیا بھر میں منعقدہ ایکسپوز کو معیارِ قیاس بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق یورپ، شمالی امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور دیگر ممالک سے سفارت کاروں، کمرشل نمائندوں، ڈیفنس اتاشیوں، قونصل جنرلز اور بڑے اداروں کے سی ای اوز، سی ایف اوز سمیت تقریباً 600 سے 700 غیر ملکی مندوبین کو مدعو کیا گیا ہے، اور اس بار مقدار سے زیادہ معیار پر زور ہے۔ اس کے ساتھ دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑی رکشا ایکسپو، فارما اور لائف سائنسز ایکسپو، اور تخلیقی معیشت و اے وی جی سی پر خصوصی توجہ شامل ہے۔ انڈیا جوائے کو بھی اسی موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے، جب کہ ماحولیاتی پالیسی سازوں اور ماہرین کی شمولیت سے ایک کلائمیٹ کانکلیو کی منصوبہ بندی ہے تاکہ مباحث کو قابلِ عمل منصوبوں میں ڈھالا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تلنگانہ انوویشن اسٹارٹ اپ چیلنج کے ذریعے عوامی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور نوجوان موجدین و اسٹارٹ اپس کو حل پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے، جنہیں امید افزا قرار دیے جانے پر پروٹوٹائپ میں ڈھالا جائے گا اور ممکن ہے کہ حکومت انہیں ٹھیکے بھی دے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے اجیت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کاروبار میں آسانیوں کے اشاریوں میں مسلسل بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔






