Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں انڈیا اتحاد کا ’چلو لوک بھون‘ احتجاج، ریونت ریڈی نے انتخابی کمیشن پر سوال اٹھائے

تلنگانہ میں انڈیا اتحاد کا ’چلو لوک بھون‘ احتجاج، ریونت ریڈی نے انتخابی کمیشن پر سوال اٹھائے

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 08 Oct 2026

تلنگانہ میں انڈیا اتحاد کا ’چلو لوک بھون‘ احتجاج، ریونت ریڈی نے انتخابی کمیشن پر سوال اٹھائے
تلنگانہ میں انڈیا اتحاد کی جانب سے انتخابی کمیشن کے خلاف احتجاجی مہم جاری ہے۔ حیدرآباد میں ’جمہوریت بچاؤ، چلو لوک بھون‘ پروگرام کے تحت کانگریس اور دیگر قائدین نے نیکلس روڈ سے لوک بھون کی طرف مارچ کیا۔ احتجاج میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سمیت کانگریس کے کئی اہم رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جاری احتجاج پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج ہو رہا ہے، لیکن ان کے مطابق آنے والے وقت میں یہی تحریک نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانے کا سبب بنے گی۔
 
ریونت ریڈی نے کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔چیف منسٹر نے موجودہ احتجاج کا موازنہ ماضی کی ’سائمن گو بیک‘ تحریک سے کرتے ہوئے کہا کہ آج ’SIR گو بیک‘ تحریک چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے مرکزی حکومت کی جانب سے ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ اب انتخابی کمیشن کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریونت ریڈی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایک مبینہ سازش کے تحت کروڑوں ووٹ حذف کیے جا چکے ہیں۔ ان کے اس دعوے پر انتخابی عمل سے متعلق تنازع کے دوران سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔
 
پی سی سی صدر مہیش کمار گوڈ نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کارکنوں کے ساتھ جمہوریت پر یقین رکھنے والے عوام سے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے راہل گاندھی کی گرفتاری کو جمہوریت کے لیے تشویش کا معاملہ قرار دیا۔ مہیش کمار گوڈ نے مرکز پر الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے کے بجائے گرفتاریوں کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی گرفتاری پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے انتخابی کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔
 
کانگریس قائدین نے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں جانبداری برتی جا رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں اور انتخابی نظام سے متعلق اس کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ احتجاج کے دوران کانگریس رہنماؤں نے انتخابی نظام میں شفافیت، ووٹر لسٹ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کے معاملے کو نمایاں کیا اور اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔