پاکستان کے شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے بڑا حادثہ پیش آیا ہے، جس میں 28 بچوں اور ایک خاتون استاد سمیت 29 افراد کی موت ہو گئی۔ اس حادثے میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق، ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے طلباء کی عمریں 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کے مطابق، ’الخیر اسکول‘ کی چھت اس وقت گری جب طلباء کلاس رومز میں موجود تھے۔ چھت گرنے کے بعد کئی بچے ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے طلباء اور اساتذہ سمیت متعدد افراد کو ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں ہسپتال کی جانب سے جاری معلومات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم نے اس حادثے میں بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ چھت گرنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جائے۔ گورنر نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی تکلیف دہ سانحہ ہے۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے سمیع اللہ نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ انہوں نے ملبے سے آٹھ سال سے کم عمر کی تین بچیوں کو نکالا۔ ان کے مطابق، انہیں صبح تقریباً 8 بج کر 50 منٹ پر فون آیا اور وہ دس منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ سمیع اللہ نے بتایا کہ ان کے چھ بچے بھی اسی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ عمارت کی حالت دیکھ کر انہیں اپنے بیٹے کی فکر ہوئی، کیونکہ وہ اس منزل پر پڑھتا تھا جس کے اوپر کی چھت گر گئی تھی۔ تاہم، حادثے کے وقت ان کا بیٹا پانی پینے کے لیے کلاس روم سے باہر نکلا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔
پاکستان میں عمارتوں اور اسکولوں کے حصے گرنے کے واقعات کے بعد تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ناقص تعمیرات، غیر معیاری مواد اور حفاظتی اصولوں پر عمل نہ کرنا ایسے حادثات کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، جولائی میں عمرکوٹ کے قریب ایک سرکاری پرائمری اسکول کی بیرونی دیوار گرنے سے تین بچیاں ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئی تھیں۔ پشاور کے تازہ حادثے نے ایک بار پھر اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت اور بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول یقینی بنانے کی ضرورت کو نمایاں کر دیا ہے۔






