اتر پردیش کانگریس نے لکھنؤ میں اپنے ریاستی ہیڈکوارٹر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے نام تبدیل کیے گئے، جبکہ ان کے ای پی آئی سی (EPIC) یعنی ووٹر شناختی کارڈ کے نمبر اور سیریل نمبر وہی رہے۔ کانگریس نے پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے کی مثال دیتے ہوئے الزام لگایا کہ جولائی سے ستمبر کے درمیان 13,150 ووٹروں کے ناموں میں تبدیلی کی گئی۔ پارٹی نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظرثانی (SIR) کے عمل کو روکنے کے معاملے میں مداخلت کرے۔ پریس کانفرنس میں اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجیندر پال گوتم، ریاستی صدر ارادھنا مشرا، رکن پارلیمنٹ اور ریاستی ورکنگ صدر عمران مسعود اور کانگریس کی قومی ترجمان سپریہ شرینیت سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔
راجیندر پال گوتم نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے ذریعے انتخابی نتائج کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کے بعد 10 اپریل کو انتخابی فہرست کا حتمی مسودہ شائع کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود جولائی اور ستمبر کے درمیان فہرستوں میں تبدیلیاں کی گئیں۔ گوتم کے مطابق، پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے میں 13,150 ووٹروں کے نام تبدیل کیے گئے، جبکہ ان کے ای پی آئی سی اور سیریل نمبر برقرار رہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 804 ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے، جبکہ تقریباً 2,600 ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے جو مبینہ طور پر اس علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
کانگریس رہنما نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر مجموعی طور پر 16,554 ووٹوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے سے متعلق مکمل فہرست الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرے گی۔ گوتم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں اس طرح کی تبدیلیاں ہوتی رہیں تو پولنگ کے دن ووٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے حقِ رائے دہی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اتر پردیش کانگریس کی صدر ارادھنا مشرا نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں سے نام ہٹانے کا معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو ریاست بھر میں اٹھائے گی اور ہر ضلع میں انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق، پارٹی اس معاملے میں قانونی مشورہ لے گی اور اپنے تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے بھی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
کانگریس رہنما عمران مسعود نے کہا کہ ووٹوں کی شفافیت اور انتخابی عمل کی سالمیت کا تحفظ صرف کسی سیاسی جماعت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی فہرست میں اپنے نام اور دیگر تفصیلات کی تصدیق کریں۔ مسعود نے کہا کہ کانگریس اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ ہوسکے۔
کانگریس کی قومی ترجمان سپریہ شرینیت نے بھی انتخابی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے اتر پردیش حکومت کے وزیر سنجے گنگوار کا حوالہ دیا، جنہوں نے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں 6,930 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ شرینیت نے دعویٰ کیا کہ پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے میں 16 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے متعلق بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق، اپریل میں فہرست شائع ہونے کے بعد بھی تبدیلیاں ہوتی رہیں، جبکہ بعض ووٹروں کے ای پی آئی سی نمبر وہی رہے۔ انہوں نے ان مبینہ تبدیلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو وضاحت دینی چاہیے کہ انتخابی فہرستوں میں یہ تبدیلیاں کیسے ہوئیں۔
سپریہ شرینیت نے اس معاملے میں تین مطالبات پیش کیے۔ پہلا، سپریم کورٹ مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لے اور ایس آئی آر کے عمل کو روکنے کے معاملے میں مداخلت کرے۔ دوسرا، ووٹر اپنے ای پی آئی سی نمبر اور انتخابی فہرست میں درج نام کی تصدیق کریں اور کسی تضاد کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ تیسرا، ضلع مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ سمیت متعلقہ افسران سامنے آکر صورتحال واضح کریں۔ واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں لگائے گئے یہ الزامات کانگریس کے دعووں پر مبنی ہیں۔ انتخابی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں اور ان کی وجوہات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔






