ملاقات پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں گوتم نے کہا: سیاست اپنی جگہ
سماجی تعلقات اپنی جگہ؛ دوستوں سے ملنا میرا حق ہے۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی ناراضگی کے درمیان اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجیندر پال گوتم نے سوامی پرساد موریہ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم راجیندر پال گوتم نے واضح کیا ہے کہ موریہ ان کے دوست ہیں اور وہ آئندہ بھی ان سے ملاقات کرتے رہیں گے۔ گوتم کا کہنا ہے کہ کسی سے ملنا یا نہ ملنا ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا، کیا مجھے اپنے دوستوں سے ملنا چھوڑ دینا چاہیے؟ میں برسوں سے ان لوگوں کے ساتھ ملک بھر میں سماجی انصاف کی لڑائی لڑتا آیا ہوں۔ میں ان سے ملتا رہوں گا۔ جہاں تک انتخابات کے وقت سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ ہے، اس پر بعد میں بات کی جا سکتی ہے۔
سوامی پرساد موریہ سے ملاقات پر وضاحت
راجیندر پال گوتم نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کو ناراض کرنا نہیں ہے، لیکن سیاست کی خاطر وہ اپنی سماجی زندگی اور پرانے تعلقات ختم نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق سیاست اور سماجی زندگی دو الگ چیزیں ہیں۔ سماجی انصاف کی جدوجہد اور عوامی مسائل پر کام کرنے کے لیے مختلف لوگوں سے ملنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اکھلیش یادو یا سماج وادی پارٹی کے دوسرے رہنما کس سے ملاقات کریں، اسی طرح انہیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ طے کریں کہ کس سے ملنا ہے۔
اکھلیش یادو اور موریہ کا اختلاف ان کا ذاتی معاملہ
اکھلیش یادو کی ناراضگی کے سوال پر گوتم نے کہا کہ سوامی پرساد موریہ پہلے سماج وادی پارٹی کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان کے اور ایس پی سربراہ کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں، انہیں دونوں کو خود حل کرنا چاہیے۔ گوتم نے کہا کہ سماج اور ملک کے مسائل ذاتی اختلافات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان کوئی ناراضگی ہے تو انہیں بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے اسے حل کرنا چاہیے۔ کانگریس اس معاملے میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی ترجیح اتر پردیش کے عوام کو راحت دلانا اور ریاست کو آمرانہ حکومت سے نجات دلانا ہے۔
بلڈوزر کارروائی اور انکاؤنٹر پر بھی اٹھائے سوال
راجیندر پال گوتم نے کہا کہ اتر پردیش میں بلڈوزر کی کارروائی بند ہونی چاہیے اور انکاؤنٹر کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد انہی مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ اکھلیش یادو اور سوامی پرساد موریہ کے درمیان اختلافات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی سگے بھائیوں کے درمیان بھی شدید اختلافات ہو جاتے ہیں اور بات چیت بند ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ آج جو لوگ ایک دوسرے کے مخالف ہیں، وہ کل دوبارہ ساتھ بیٹھے نظر آئیں۔
گوتم نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ کئی لوگوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ ان سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے سوامی پرساد موریہ کے کانگریس میں شامل ہونے کے امکان پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ موریہ کو نہیں جانتے، وہ ان کے اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔






