اترپردیش الیکشن آئندہ سال یعنی 2027 کے ابتدائی مہینوں میں ہونے کا امکان ہے۔ تمام سیاسی پارٹی الیکشن جیتنے کے لئے کمر کس لی ہیں۔ یوگی زیر قیادت بی جےپی تیسری مرتبہ الیکشن جیتنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہر پارٹی عوام کےدرمیان پہنچ کر ووٹروں کو اپنے حق میں کرنے کےلئے ابھی سے جٹ چکی ہے۔ الیکشن سے پہلے ہی اترپردیش میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے دعویٰ کیا کہ صرف پارٹی سربراہ اکھلیش یادو ہی اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دے سکتے ہیں اور کانگریس اپنے طور پر کچھ حاصل نہیں کر سکتی، اس عظیم پرانی پارٹی نے منگل کو کہا کہ آئیے (ایس پی اور کانگریس) امن کے ساتھ چلیں گے، اور ہم ساتھ رہیں گے۔ کانگریس ایم پی عمران مسعود نے کہا، "وہ (اقرا حسن) بھی اکیلے یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اقرا ہماری بچی ہے۔ وہ ہماری بھانجی کی طرح ہے۔"
مغربی بنگال میں کیا ہوا دیکھیں
عمران مسعود نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس کے لوگ بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے۔ بنگال میں کیا ہوا دیکھیں۔ آئیے ساتھ چلیں، اور ہم امن سے رہیں گے۔
سیاست میں 1اور1 ہمیشہ 2 نہیں ہوتے
کانگریس لیڈر ادت راج نے منگل کو کہا کہ "سیاست میں کبھی کبھی 1 اور1 دو نہیں بلکہ 11 ہوتا ہے۔" انہوں نے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے اس تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں اتحاد کے بغیر کانگریس انتخابات نہیں جیت سکتی۔اقراء حسن کے تبصرے پر بات کرتے ہوئے، ادت راج نے کہا، "2024 میں، جب ہم نے ایک معاہدہ کیا تھا، سماج وادی پارٹی سے 36 اور کانگریس سے 6 ایم پیز نے مقابلہ کیا تھا، اس سے پہلے 2019 میں، سماج وادی پارٹی سے صرف 6 ایم پیز کا انتخاب کیا گیا تھا، لہذا، سیاست میں، ایک اور ایک، ہمیشہ دو نہیں ہوتے۔ ایک اور ایک گیارہ بھی ہو سکتے ہیں۔اس لئے انھیں اس بات کو سمجھنا چاہئے ۔"
پارٹی قیادت ہی فیصلہ کرےگی
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں طرف سےشخصی یا انفرادی تبصرے کیے جاتے ہیں اور ایک فرد اپنی ذاتی رائے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کمان جو بھی کہے، وہی حتمی فیصلہ ہو گا۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ کانگریس اور ایس پی مل کر الیکشن لڑیں گے، تو ایسا ہی ہوگا۔
اترپردیش بی جے پی لیڈر کا بیان
اتر پردیش بی جے پی کے نائب صدر نیرج سنگھ نے کہا، "کانگریس پورے ملک میں اپنے طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائے گی۔ اور اگر وہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی یا کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اتحاد بھی کر لیتی ہے، تب بھی اتر پردیش کے لوگوں نے پہلے ہی اپنے دلوں میں بی جے پی حکومت کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا ہے۔"
اقرا حسن کیا کہاتھا؟
اس سے قبل پیر کو اقرا حسن نے کہا تھا، "یہ بالکل احمقانہ بیان ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر اتر پردیش میں کوئی ہے جو بی جے پی کو ہرا سکتا ہے تو وہ صرف اکھلیش یادو ہیں۔ کانگریس اپنے دم سے کچھ نہیں کر پائے گی۔ اگر اتحاد رہتا ہے تو یہ بہت اچھا ہو گا، اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ ان (کانگریس) کے لیے نقصان ہے، ہمارے لیے نہیں"۔
بی جےپی کو روکنے اویسی کی کوشش
اترپردیش میں بی جےپی کو روکنے کے لئےاویسی نے بھی اتحاد کرنے کی پیش کش کی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں کہاکہ جو کوئی پارٹی یوپی، میں بی جےپی کو روکنا چاہتی ہے، ایم آئی ایم اس پارٹی سے اتحاد کیلئے تیا رہے۔ اس سلسلہ میں اسد اویسی نے ہم خیال پارٹی کو 2اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہےکہ کیا، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین 2 اکتوبر کو کن پارٹیوں سے اتحاد کرے گی ۔ اور بی جےپی کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے دیگر پارٹیوں کے پاس کیا فارمولہ ہے۔ اسد الدین اویسی اتر پردیش میں اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئےہیں۔ اس سلسلہ میں ریاست کےمختلف علاقوں میں ریلی سے بھی خطاب کر چکےہیں۔
2027 میں یو پی اسمبلی الیکشن
اترپردیش اسمبلی کے تمام 403 اراکین کو منتخب کرنے کے لیےانتخابات 2027 میں ہونے والے ہیں۔انتخابات فروری-مارچ 2027 میں متعدد مراحل میں ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اتر پردیش اسمبلی کی موجودہ مدت مئی 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے وزیر اعلی کے طور پر کام کر رہے ہیں جو تیسری مدت کے لیے چاہتے ہیں۔ تمام سیاسی پارٹی یوپی الیکشن کی تیاری کر رہےہیں۔







