Thursday, September 17, 2026 | 03 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • بھارت کےروس سے تیل خریدنے پرامریکہ سخت:100 فیصد ٹیرف کی تجویز

بھارت کےروس سے تیل خریدنے پرامریکہ سخت:100 فیصد ٹیرف کی تجویز

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 16 Sept 2026

بھارت کےروس سے تیل خریدنے پرامریکہ سخت:100 فیصد ٹیرف کی تجویز
امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک ایسے بل پر ووٹنگ متوقع ہے، جس کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ اس مجوزہ قانون میں بھارت کا نام بھی شامل ہے، جس کے باعث یہ معاملہ نئی دہلی کے لیے اہم بن گیا ہے۔ ’Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026‘ نامی بل پر پہلے ہی امریکی سینیٹ میں ووٹنگ ہو چکی ہے، جس میں 86 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 11 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اسی وجہ سے بل سینیٹ سے منظور ہو گیا۔ اب ایوانِ نمائندگان کی رولز کمیٹی نے اس بل کا جائزہ لیا ہے اور اسے مکمل ایوان میں بحث اور ووٹنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس بل کا مقصد روس اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنا ہے۔ اس کے علاوہ روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کے لیے امریکی صدر کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

 بھارت کے لیے بل کا کیا مطلب ہے؟

یہ بات واضح ہے کہ مجوزہ بل خود بخود بھارتی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، یہ صدر کو ایسا اختیار دے گا جس کے تحت روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیے جا سکیں گے۔ اس قانون کا اطلاق ان ممالک پر بھی ہو سکتا ہے جو روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹک نمائندے سٹینی ہوئیر نے ایوان میں ایک ترمیم پیش کی تھی، جس میں 10 ممالک کے نام شامل تھے۔ ان ممالک پر مستقبل میں 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

کن ممالک پر100فیصد ٹیرف کی ہے تجویز 

اس فہرست میں بھارت کے علاوہ
 چین
 متحدہ عرب امارات
 ترکیہ
 آذربائیجان
 ہنگری
 سنگاپور
 قازقستان
 کرغزستان
اور جمہوریہ سلوواک شامل ہیں۔
 
ہوئیر کی ترمیم کو 3 ارکان کی حمایت اور 7 کی مخالفت سے مسترد کر دیا گیا۔ اس ترمیم کو ایوان میں بحث کے لیے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس لیے بھارت کا نام شامل ہونا ابھی حتمی ٹیرف یا نافذ شدہ پابندی نہیں سمجھا جا سکتا۔

 سینیٹ سے منظور شدہ بل میں کیا ہے؟

سینیٹ سے منظور شدہ مسودے میں بھارت یا دیگر ممالک کے نام واضح طور پر شامل نہیں کیے گئے تھے۔ اس میں روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے پانچ بڑے ممالک کو ہدف بنانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بل کا مقصد روسی حکومت، توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے بحری جہازوں پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی توانائی کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ اس اختیار کا استعمال بل میں شامل شرائط اور ممکنہ استثنیٰ کے مطابق ہوگا۔ بل میں ایران سے متعلق پابندیوں کو بھی مزید سخت کرنے کی دفعات شامل ہیں۔

ٹیرف کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش بھی ناکام

امریکی ایوان میں کچھ قانون سازوں نے بل میں شامل ٹیرف کی دفعات کی مخالفت کی ہے۔ نمائندے گریگوری میکس اور کئی دیگر ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ایک ترمیم پیش کی تھی، جس کا مقصد صدر کو اضافی ٹیرف عائد کرنے کا وسیع اختیار دینے والی شق ختم کرنا تھا۔ رولز کمیٹی نے اس ترمیم کو بھی مسترد کر دیا۔ کمیٹی میں 7 ارکان نے اس ترمیم کو ایوان میں بحث کے لیے پیش کرنے کی مخالفت کی، جبکہ 3 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد کمیٹی نے 7 ووٹوں کی حمایت اور 3 ووٹوں کی مخالفت سے بل کو ایوان میں بحث اور مزید کاروائی کے لیے آگے بڑھانے کی اجازت دے دی۔ اس معاملے پر امریکی قانون سازوں کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے ذریعے روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مخالفین کو خدشہ ہے کہ اس سے صدر کو تجارتی شراکت داروں پر محصولات عائد کرنے کے لیے بہت زیادہ اختیار مل جائے گا۔

 بھارت امریکی توجہ کا مرکز کیوں ہے؟

بھارت مسلسل روس سے خام تیل خرید رہا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی پابندیوں کے مجوزہ نظام میں بھارت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ روس سے توانائی کی خریداری ملک کی قومی ضروریات اور توانائی کے تحفظ کے لیے کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی برکس سربراہی اجلاس سے قبل 11 ستمبر کو نئی دہلی میں ملاقات کی تھی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ معاشی تعلقات اور توانائی سے متعلق امور پر بات چیت کی۔ اگر یہ قانون امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور ہو کر قانون بن جاتا ہے تو بھارت کو اضافی تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکی صدر ان اختیارات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور حتمی قانون میں کن ممالک کو اضافی ٹیرف کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے۔