Saturday, November 07, 2026 | 26 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوران حملوں کی خبریں، کیا خطے میں پھر بڑھے گی کشیدگی؟

امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوران حملوں کی خبریں، کیا خطے میں پھر بڑھے گی کشیدگی؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Nov 2026

امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوران حملوں کی خبریں، کیا خطے میں پھر بڑھے گی کشیدگی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے اور ایران سے متعلق معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صورتحال پر ان کی انتظامیہ کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ سفارتی کوششیں کس سمت آگے بڑھتی ہیں۔ 
 
جزیرہ قشم پر دو میزائل گرنے کی اطلاعات
 
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے جنوبی حصے میں واقع جزیرہ قشم پر مبینہ میزائل حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق قشم کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق مقامی عینی شاہدین نے بتایا کہ جزیرے پر دو پروجیکٹائل گرے اور اسی دوران فضا میں ایک طیارے کی آواز بھی سنائی دی۔ قشم آبنائے ہرمز کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں نمک، تیل اور گیس سمیت کئی قدرتی وسائل موجود ہیں۔ اس لیے یہاں کسی بھی سکیورٹی واقعے کے اثرات خطے کی توانائی کی رسد اور اہم بحری راستوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی شہریوں کے لیے حفاظتی انتباہ
 
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو مزید محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ امریکی حکام کے جاری کردہ انتباہ میں حوثی گروہ کی جانب سے ممکنہ مسلح حملوں اور امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال کے باعث پروازیں منسوخ ہو سکتی ہیں، فضائی حدود بند کی جا سکتی ہیں اور سفر میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کی تازہ سفری ہدایات اور سکیورٹی انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں۔
 
قطر نے مذاکرات سے متعلق خبروں کو گمراہ کن قرار دیا
 
دوسری جانب قطر نے سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سے یہ بیان منسوب کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ قطر کے بین الاقوامی میڈیا دفتر کے مطابق وزیرِ اعظم کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دفتر کا کہنا ہے کہ قطری ثالث اب بھی واشنگٹن اور تہران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
 
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات پر 20 ملین ڈالر انعام
 
اسی دوران امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 20 ملین ڈالر تک انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک طرف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب خطے میں میزائل حملوں کی اطلاعات اور سکیورٹی انتباہات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔