واشنگٹن میں امریکی سیکریٹ سروس نے جمعرات کی رات وائٹ ہاؤس کے قریب ایک گاڑی سے وینزویلا کے شہری کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق مشتبہ شخص صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قتل کی مبینہ سازش سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم معاملے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے مشتبہ شخص کی شناخت رونی یورڈریکس گوانیپا کرینوس کے طور پر کی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھا اور مارچ 2024 میں ٹیکساس کے راستے ملک میں داخل ہوا تھا۔ اہلکاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب گشت کے دوران سیکریٹ سروس کی ٹیم کو ایک گاڑی مشکوک حالت میں کھڑی نظر آئی۔ اہلکاروں نے گاڑی میں موجود شخص سے پوچھ گچھ کی اور قانونی طریقہ کار کے تحت تلاشی لی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ گاڑی چوری شدہ تھی اور اس کے بارے میں پہلے ہی رپورٹ درج کرائی جا چکی تھی۔
گاڑی سے تین بندوقیں اور درجنوں کارتوس برآمد
حکام کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران تین مختلف اقسام کی بندوقیں اور درجنوں کارتوس برآمد ہوئے، جنہیں ضبط کرکے تفتیش کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر ایسے بیانات دیے جن میں اس نے دعویٰ کیا کہ اسے اپنے ذہن میں کچھ آوازیں سنائی دیتی تھیں، جو اسے واشنگٹن جانے اور ریپبلکن پارٹی کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے پر اکساتی تھیں۔ سیکریٹ سروس نے اسے موقع پر گرفتار کرنے کے بعد امریکی مارشل سروس کے حوالے کر دیا۔ اس کے خلاف وفاقی اور امیگریشن قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
اسلحے کی جانچ اور مشترکہ تحقیقات جاری
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ ملزم غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھا۔ متعلقہ تحقیقاتی ادارے اس کی سرگرمیوں اور ممکنہ روابط کی جانچ کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق برآمد شدہ ہتھیاروں کی بالِسٹک جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ اسلحہ کسی دوسرے جرم میں استعمال ہوا یا کسی مجرمانہ نیٹ ورک سے اس کا تعلق ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب سکیورٹی سخت
واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور اضافی نگرانی کے ساتھ حفاظتی رکاوٹیں بھی قائم کی گئیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ اس واقعے میں کسی شہری یا وائٹ ہاؤس کے عملے کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ میڈیا کو مزید معلومات کے لیے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور سیکریٹ سروس سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
ملزم کی ذہنی صحت کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مقدمات میں ملزم کی ذہنی صحت سے متعلق پہلوؤں کی جانچ بھی اہم ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کے ان دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے نفسیاتی تشخیص کرائی جا سکتی ہے جن میں اس نے آوازیں سنائی دینے کا ذکر کیا ہے۔ آئندہ عدالتی کارروائی کے دوران یہ طے کیا جائے گا کہ ملزم کے خلاف قتل کی سازش، غیر قانونی اسلحہ رکھنے، چوری شدہ گاڑی استعمال کرنے اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کون سی دفعات لاگو ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ قومی سلامتی سے جڑا ہونے کے باعث فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور پیش رفت کے مطابق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔






