Monday, October 05, 2026 | 21 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • امراوتی کو کوانٹم ویلی بنانے کا منصوبہ، 500 کروڑ روپے کے وینچر فنڈ کا اعلان

امراوتی کو کوانٹم ویلی بنانے کا منصوبہ، 500 کروڑ روپے کے وینچر فنڈ کا اعلان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 03 Oct 2026

امراوتی کو کوانٹم ویلی بنانے کا منصوبہ، 500 کروڑ روپے کے وینچر فنڈ کا اعلان
آندھرا پردیش کے مستقبل میں ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور ڈیپ ٹیک کے شعبے میں اہم مرکز بننے کی سمت ایک اہم پیش رفت وجے واڑہ میں منعقدہ پین آئی آئی ٹی امراوتی سمٹ 2026 کے دوران سامنے آئی۔ وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں منعقدہ اس سمٹ میں ریاست کی ٹیکنالوجیکل ترقی سے متعلق کئی اہم اعلانات کیے گئے۔
 
ڈیپ ٹیکنالوجی کی ترقی اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے 500 کروڑ روپے کے وینچر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا، جبکہ ’امراوتی ڈیکلریشن‘ بھی جاری کیا گیا۔ اسی موقع پر ’’میک اِن امراوتی‘‘ کے عزم کے تحت تیار کیے گئے پانچ ’کیو-شیوا‘ (Q-Shiva) کوانٹم کمپیوٹرز کی نقاب کشائی بھی وزیر اعلیٰ نے کی۔
 
پانچ Q-Shiva کوانٹم کمپیوٹرز کی نقاب کشائی
کیوبٹ فورس اور چندی گڑھ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کیے گئے Q-Shiva کمپیوٹرز کو منی ٹیسٹنگ کوانٹم لیبز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے 4 کیلون پروسیسر ’سریشتی‘ کی بھی نقاب کشائی کی۔اس موقع پر کیوبٹ فورس کے سی ای او وینکٹا سبرامنیم نے بتایا کہ ان کمپیوٹرز کی تیاری کے لیے درکار بعض اہم پرزے دنیا میں صرف ایک یا دو مقامات پر دستیاب ہیں، جبکہ ایسے اہم اجزا کا مچھلی پٹنم میں دستیاب ہونا ایک نمایاں پیش رفت ہے۔انہوں نے اس منصوبے میں وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے حاصل تعاون کو ناقابل فراموش قرار دیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے کیوبٹ کے نمائندوں کی کوششوں کی ستائش کی اور ان کے ساتھ سیلفی بھی لی۔
 
’امراوتی ڈیکلریشن‘، ڈیپ ٹیک کو فروغ دینے کا منصوبہ
سمٹ میں آندھرا پردیش حکومت اور پین آئی آئی ٹی ایلومنائی کے نمائندوں کے دستخط سے جاری ہونے والا ’امراوتی ڈیکلریشن‘ بھی اہم توجہ کا مرکز رہا۔ڈیکلریشن کے مطابق امراوتی میں آندھرا پردیش حکومت اور پین آئی آئی ٹی ایلومنائی انڈیا کے اشتراک سے ایک مستقل کونسل قائم کی جائے گی۔ ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس، اختراعات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے 500 کروڑ روپے کا پین آئی آئی ٹی امراوتی وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
 
اس کونسل کے ذریعے ریاست کی یونیورسٹیوں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان رابطہ اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ڈیکلریشن میں ریاست کے تعلیمی اداروں میں 10 انڈسٹری چیئرز قائم کرنے، 100 عالمی آئی آئی ٹی مینٹورز کے ذریعے اسٹارٹ اپس کی رہنمائی اور 23 آئی آئی ٹیز سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔اس منصوبے کے تحت کوانٹم اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، اسپیس اور ڈیفنس جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ساتھ 2030 تک کم از کم 50 اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
 
امراوتی بنے گی ’کوانٹم ویلی‘: چندرا بابو
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ماضی میں جب آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دیا گیا تو دنیا بھر میں تلگو افراد نے ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی شناخت بنائی۔انہوں نے کہا، ’’اب دنیا صرف سلیکان ویلی کی بات نہیں کرے گی بلکہ امراوتی کی کوانٹم ویلی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے گی۔‘‘
 
چندرا بابو نے اپنے سابقہ ’ویژن 2020‘ منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت بعض لوگوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’420‘ قرار دیا تھا، لیکن اسی وژن کے نتیجے میں بجلی اور سڑکوں سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل آگے بڑھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے اور 2047 تک ہندوستان کے دنیا کی صف اول کی معیشت بننے کے ہدف کو حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔وزیر اعلیٰ نے آئی آئی ٹی سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ ’وکست بھارت‘ اور ’سورن آندھرا‘ کے اہداف کے حصول میں اپنا تعاون دیں۔
 
فروری سے امراوتی میں کوانٹم کمپیوٹر آپریشنز
چندرا بابو نائیڈو نے اعلان کیا کہ IBM-TCS اور L&T کے اشتراک سے قائم کیے جانے والے کوانٹم کمپیوٹر آپریشنز اگلے سال فروری سے امراوتی سے شروع ہوں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آندھرا پردیش مستقبل میں صرف کوانٹم کمپیوٹرز کے استعمال تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ریاست کوانٹم کمپیوٹرز تیار کرکے انہیں برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گی۔