Wednesday, October 28, 2026 | 16 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، وشاکھاپٹنم میں انتظامیہ الرٹ

سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، وشاکھاپٹنم میں انتظامیہ الرٹ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Oct 2026

سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، وشاکھاپٹنم میں انتظامیہ الرٹ
آندھرا پردیش میں سمندری طوفان ارنب کے خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہوگئی ہے۔ وشاکھاپٹنم کے ضلع کلکٹر ابھیشک کشور نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ طوفان سے متاثر ہونے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور بحالی مراکز میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خطرناک علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی نشاندہی کرکے انہیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے پہلے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔ ضلع کلکٹر ابھیشک کشور نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے متعلقہ حکام کو طوفان سے نمٹنے اور راحت رسانی کے انتظامات کے بارے میں ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کی حفاظت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
 
ضلع کلکٹر نے ساحلی دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ طوفان کے خطرے سے متعلق لوگوں کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکیں۔ ابھیشک کشور نے متعلقہ عہدیداروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ ضرورت والے علاقوں میں مائیکروفون کے ذریعے طوفان کی وارننگ جاری کی جائے۔ انتظامیہ کا مقصد یہ ہے کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والے افراد تک بروقت اطلاع پہنچے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
 
دوسری جانب سمندری طوفان ارنب کے اثرات ہماچل پردیش میں بھی دیکھے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست میں 29 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان بارش اور بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری ہوسکتی ہے۔ شملہ، منڈی اور سولن سمیت مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شملہ موسمیاتی مرکز کے ڈائریکٹر شوبھیت کٹیار کے مطابق ریاست کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ خراب موسم کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ایلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش کے پانچ اضلاع کے لیے بھی ایلو الرٹ جاری کرنے کی اطلاع دی ہے۔
 
محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش کے کئی حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور اونچائی والے علاقوں میں برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس دوران موسم میں تبدیلی کے باعث لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پہاڑی اور حساس علاقوں میں رہنے والوں کو موسم کی تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شوبھیت کٹیار(Shobhit Katiyar) کے مطابق خلیج بنگال میں ایک طوفانی نظام تشکیل پایا ہے، جو تقریباً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب اور شمال مغرب کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اسی نظام کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں موسم کی نگرانی کی جارہی ہے۔