اترپردیش کی حکومت نے چترکوٹ دھام کو بنڈیل کھنڈ ایکسپریس وے سے ملانے والی نئی سڑک کے منصوبے کی ترمیم شدہ تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں اس منصوبے سمیت 23 تجاویز کو منظوری دی گئی۔ چھ لین والا یہ نیا ایکسپریس وے تقریباً 1,008.67 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی پوری لاگت اتر پردیش حکومت دے گی۔ اور مرکزی حکومت اس میں مالی تعاون نہیں کرے گی۔
15.172 کلومیٹر طویل ہوگا ایکسپریس وے
مجوزہ چترکوٹ لنک ایکسپریس وے کی لمبائی 15.172 کلومیٹر ہوگی۔ اسے ’انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن‘ یعنی EPC طریقے سے تعمیر کیا جائے گا۔ یہ ایکسپریس وے تقریباً 110 میٹر چوڑا ہوگا اور اس پر چھ لین ہوں گی۔ گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 120 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق بندیل کھنڈ ایکسپریس وے آگے آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس وے سے جڑتا ہے، جس کے ذریعے یہ روٹ یمنا ایکسپریس وے اور دہلی-این سی آر سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں جھانسی لنک ایکسپریس وے سے مستقبل کے رابطے کی تیاری کا بھی ذکر ہے
پل، فلائی اوور اور انڈر پاسز بھی بنیں گے
منصوبے کے تحت صرف سڑک ہی نہیں بلکہ کئی دیگر تعمیرات بھی کی جائیں گی۔ اس میں ایک بڑا پل، چار چھوٹے پل، ایک فلائی اوور، 17 انڈر پاسز اور 23(Culvert)شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک ٹول پلازہ اور ٹول کلیکشن بوتھ بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اب منصوبے کے لیے تعمیراتی کمپنی کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر ٹینڈرز طلب کیے جائیں گے۔ بولی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایکسپریس وے کی تعمیر شروع کی جائے گی۔ چترکوٹ ایک اہم مذہبی اور سیاحتی مقام ہے جہاں ہر سال بڑی تعداد میں زائرین اور سیاح پہنچتے ہیں۔ نئے ایکسپریس وے سے چترکوٹ دھام اور بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کے درمیان رابطہ بہتر ہونے کی توقع ہے۔ اس سے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لیے سفر زیادہ آسان اور تیز ہو سکتا ہے۔ چھ لین والا یہ ایکسپریس وے ’ایکسس کنٹرولڈ‘ ہوگا، یعنی اس میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے مقررہ مقامات ہوں گے۔
کھلونا بنانے کی صنعت کے لیے نئی پالیسی
کابینہ نے اتر پردیش میں کھلونا بنانے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ’اتر پردیش کھلونا مینوفیکچرنگ پروموشن پالیسی-2025‘ کو بھی منظوری دی ہے۔ حکومت کے مطابق اس پالیسی کا مقصد کھلونا بنانے کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے لکھنؤ میں پہلے سے منظور شدہ ہائی ٹیک ٹاؤن شپ منصوبے کو مکمل کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ نے اسی اجلاس میں مجموعی طور پر 23 تجاویز منظور کیں۔ ان میں 14,429 سرکاری پرائمری اسکولز کو اسمارٹ اسکول بنانے کی تجویز بھی شامل تھی، جس پر 300 کروڑ روپے خرچ ہونے ہیں۔







